اساتذہ کے تبادلوں پر حکومت کے اقدامات کا آغاز

   

طلبہ کی تعداد کے لحاظ سے تبادلے اور تقررات ہوں گے، محکمہ تعلیمات کی تیاری

حیدرآباد۔30۔جون(سیاست نیوز) ریاستی حکومت کے محکمہ تعلیم کی جانب سے اساتذہ کے تبادلوں کے سلسلہ میں اقدامات کا آغاز کیا جاچکا ہے اور حکومت تلنگانہ کی جانب سے سرکاری اسکولوں میں طلبہ کی تعداد کو نظر میں رکھتے ہوئے اساتذہ کے تبادلے کئے جائیں گے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے کئے گئے فیصلہ کے مطابق جن اسکولوں میں 1تا10طلبہ کی تعداد ہوگی ان اسکولوں میں 1استاد کا تقرر کیا جائے گا اور جن اسکولو ںمیں طلبہ کی تعداد 11تا40 ہوگی ان اسکولوں کو دو اساتذہ کی فراہمی عمل میں لائی جائے گی اسی طرح جن اسکولوں میں 41تا60طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان اسکولوں میں تین اساتذہ کی فراہمی کے اقدامات کئے جائیں گے۔ بتایاجاتا ہے کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے اساتذہ کی منظورہ جائیدادوں کے مطابق اساتذہ کو ویب آپشن فراہم کیا جائے گا جہاں 61 سے زائد طلبہ کی تعداد موجود ہے۔جن سرکاری اسکولوں میں طلبہ کی تعداد صفر ہے ان اسکولوں میں کسی بھی مدرس کے تقرر کے اقدامات نہیں کئے جائیں گے اور جن اسکولوں میں طلبہ کی تعداد زیادہ ہے ان اسکولوں میں اساتذہ کی تعداد میں اضافہ کرنے کے بھی اقدامات کئے جائیں گے۔ محکمہ تعلیم کے مطابق پیشروحکومت کی جانب سے جاری کئے گئے جی او نمبر 17 جو کہ 27جون 2015کو جاری کیاگیا تھا اور جی او نمبر 25جو کہ 21اگسٹ 2021 کو جاری کیاگیا تھا اس میں صفر تا 19 طلبہ کی تعداد والے اسکولوں میں 1مدرس کے تقرر کے علاوہ 20تا60 طلبہ کی تعداد والے سرکاری اسکولوں میں 2اساتذہ اور 61 تا90 طلبہ کی تعداد والے اسکولوں میں 3اساتذہ کی فراہمی کے اقدامات کئے گئے تھے لیکن ریاست میں موجود ہ حکومت کی جانب سے سرکاری اسکولوں میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور سرکاری اسکولوں کے نتائج میں بہتری لانے کے مقصد سے اساتذہ کی تعداد میں اضافہ کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اسی لئے حکومت کی جانب سے 1تا10طلبہ کی تعداد والے اسکولوں میں ایک مدرس کے تقرر کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کے مطابق سرکاری اسکولوں میں منظورہ جائیدادوں اور طلبہ کی تعداد کو نظر میں رکھتے ہوئے اساتذہ کے تبادلوں کے اقدامات کئے جائیں گے ۔ جن اسکولوں میں طلبہ کی تعداد صفر ہے ان اسکولوں میں کسی بھی مدرس کی خدمات فراہم نہیں کی جائے گی لیکن جہاں طلبہ کی تعداد قابل لحاظ ہے ان اسکولوں میں منظورہ جائیدادوں کے مطابق اساتذہ کی فراہمی کو بھی یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔3