مولانا ڈاکٹر ابو زاہد شاہ سید وحید اللہ حسینی القادری الملتانی کا بیان
حیدرآباد ۔ /6 اکٹوبر (پریس نوٹ) مولانا ڈاکٹر ابو زاہد شاہ سید وحیداللہ حسینی القادری الملتانی جنرل سکریٹری مرکزی مجلس فیضان ملتانیہ نے کہا کہ وہ ماہ صفر المظفر کی آمد کے ساتھ ہی بعض مسلم گھرانے بالخصوص خواتین عجیب و غریب توہمات ، رسومات اور خرافات میں مبتلا ہوجاتی ہیں ۔ اکثر یہ گمان کیا جاتا ہے کہ اس ماہ کی تیرہ تاریخ نحوستوں سے پر ہے جو بالکل غیر اسلامی اور ساقط الاعتبار نظریہ ہے ۔ ہماری یہ سونچ انتہائی معیوب اور ضعیف الاعتقادی کی مظہر ہے ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے انسان دھر (زمانہ) کو برا بھلا کہکر مجھے تکلیف پہنچاتا ہے چونکہ زمانہ تو میں خود ہوں چونکہ دھر میں قھر اور غلبہ (جو خالق کائنات کی خاص صفت ہے) کے معنی پائے جاتے ہیں اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو دھر قرار دیا اور زمانہ کو برا بھلا کہنے سے منع فرمایا ۔ تعلیمات اسلامی سے ناآشنائی ، احکامات الہیہ و مصطفویہ ﷺ کی خلاف ورزی ،اعمال صالحہ سے دوری ، دولت اخلاص سے محرومی اور ایمان و یقین کی کمزوری ایسے مہلک اسباب ہیں جس سے نحوست پروان چڑھتی ہے ۔ آج شیطان دنیا کو گلیمرس ٹی وی سیریلز ، دلکش لہو و لعب (گیمس و اسپورٹس) پتنگ بازی اور آتش بازی کی شکل میں مزین بناکر ہمارے سامنے پیش کرکے ہمیں راہ راست سے ہٹانے کی کوشش کررہا ہے اور ہم ان لعنتوں میں مکمل طور پر گھرتے جارہے ہیں ۔ نوجوان نسل پر اس کے منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔ انہیں اغیار کا طور طریق اور لٹریچر پسند آرہا ہے اور وہ آہستہ آہستہ اسلامی تعلیمات سے دور ہورہے ہیں ۔ انتہائی تکلیف اور افسوس کے ساتھ یہ بات سپرد قلم کرنا پڑرہا ہے کہ نئی نسل کی اکثریت تفہیم قرآن و حدیث تو درکنار صحیح مخارج کے ساتھ تلاوت قرآن مجید کرنے سے بھی قاصر ہے ۔ جبکہ ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم پوری طرح اسلام میں داخل ہوجائیں اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ ہم اسلامی تعلیمات سے مکمل طورپر آشنا نہ ہوجائیں ۔