یروشلم : اسرائیلی رپورٹوں میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم اور اپوزیشن سربراہ بنیامین نیتن یاہو خود پر عائد بدعنوانی کے الزامات کے حوالے سے عدلیہ کے ساتھ ایک ممکنہ سمجھوتے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔اس سمجھوتے کے تحت وہ سیاست سے خواہ عارضی طور پر ہی صحیح کنارہ کشی اختیار کر لیں گے۔نیتن یاہو کے وکیل کی جانب سے حکومت کے قانونی مشیر کو پیش کی گئی تجویز کے مطابق سابق وزیر اعظم مالی غبن اور بد دیانتی کے الزامات کو تسلیم کر لیں گے بشرطیکہ ان پر رشوت ستانی کا الزام عائد نہ کیا جائے۔دریں اثنا سمجھوتے کی بات چیت کو نیتن یاہو کے اس مطالبے سے دھکا پہنچا کہ انہیں اخلاقی بدعنوانی کا مجرم نہ ٹھہرایا جائے۔ اسرائیلی قانون کے مطابق اس الزام کے تحت نیتن یاہو کئی برس کے لیے سیاست چھوڑ دینے پر مجبور ہو جائیں گے۔نیتن یاہو مسلسل 12 برس وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے کے بعد جون 2021ء میں اقتدار چھوڑ کر اپوزیشن سربراہ بن گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ رشوت ستانی، بد دیانتی اور غبن کے الزامات میں بے قصور ہیں۔سابق وزیر اعظم کو 2019 میں ان تینوں الزامات کے تحت مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ یاہو کی لیکوڈ پارٹی گذشتہ برس انتخابات کے بعد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بعض سیاسی جماعتوں نے نیتن یاہو کیخلاف جاری عدالتی کارروائی کے سبب نیتن یاہو کے ساتھ شراکت داری سے انکار کر دیا تھا۔ اگر قانونی مشکلات ختم ہو گئیں تو نیتن یاہو نظریاتی طور پر دائیں بازو کا ایک وسیع اتحاد تشکیل دینے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ تاہم اگر انہیں سیاسی سرگرمی سے روک دیا گیا تو یہ امر نفتالی بینیٹ کے اتحاد میں موجود دائیں بازو کے ارکان کو لیکوڈ پارٹی کی نئی قیادت کے ساتھ ایک نئی حکومت تشکیل دینے کے عمل کو متاثر کرے گا۔