اسد الدین اویسی کو کتنی اکثریت حاصل ہوگی ؟سٹہ بازار گرم

,

   

حیدرآباد 2 مئی ۔ ( سیاست نیوز) پارلیمانی حلقہ حیدرآباد سے بیرسٹر اسدالدین اویسی کی کامیابی یقینی ہے لیکن اس کے باوجود سٹہ بازار میں حلقہ پارلیمان حیدرآباد پر سٹہ کھیلا جارہا ہے۔ لوک سبھا حیدرآباد میں کوئی مقابلہ نہ ہونے کے بعد اب سٹہ بازار میں بیرسٹر اسد الدین اویسی کی اکثریت پر سٹہ بازار گرمانے لگا ہے۔سٹہ بازار میں یہ تجسس پیدا ہورہا ہے کہ بیرسٹراسدالدین اویسی کی کامیابی کتنے ووٹوں سے ہوگی کیا وہ 3لاکھ ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کریں گے ! یا ان کی کامیابی 4لاکھ سے زیادہ ووٹوں سے ممکن ہوپائے گی! لوک سبھا حیدرآباد میں 22لاکھ 17ہزار 94 رائے دہندے ہیں جن میں 11لاکھ 25ہزار 310مرد اور 10لاکھ 91 ہزار 587 خاتون ووٹرس کے علاوہ 107 مخنث رائے دہندے ہیں ۔ حیدرآباد سے بیرسٹر اسدالدین اویسی چوتھی مرتبہ مقابلہ کر رہے ہیں اور اس مرتبہ بی جے پی نے خاتون امیدوار مادھوی لتا کو میدان میں اتارا ہے اور کانگریس نے سمیر والی اللہ کو میدان میں اتارکر اسد اویسی کی کامیابی کی راہ ہموار کردی ہے ساتھ ہی مجلس بچاؤ تحریک کی جانب سے لوک سبھا انتخابات میں حصہ نہ لینے کے فیصلہ کے بعد اسدالدین اویسی کی کامیابی میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی اس کے باوجود سٹہ بازار میں تلنگانہ کی نشستوں میں حیدرآباد پر کامیابی کی اکثریت پر سٹہ بازار گرمانے لگا ہے کیونکہ شہر حیدرآباد اور تلنگانہ میں موسم گرما کی شدت اور درجہ حرارت میں اضافہ کے سبب رائے دہی کے تناسب میں گراوٹ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہاہے ۔ کہا جا رہاہے کہ حلقہ حیدرآباد میں اگر رائے دہی کے تناسب میں کمی آتی ہے تو بیرسٹر اسدالدین اویسی کی اکثریت میں کمی ہوسکتی ہے ۔ 2019 انتخابات میں اسد اویسی نے 5 لاکھ 13ہزار 868 ووٹ حاصل کئے تھے جبکہ جملہ رائے دہی 9 لاکھ 71ہزار 770 ووٹوں کی ہوئی تھی ۔2019 میں حیدرآباد حلقہ میں رائے دہندوں کی تعداد 18لاکھ 23ہزار217 تھی جس میں 53.30 فیصد ووٹوں کا استعمال کیا گیا تھا اور مستعملہ ووٹوں میں مجلسی امیدوار نے 52.94 فیصد ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی تھی ۔2024 انتخابات کے مقابلہ اس بار اسدالدین اویسی کے مقابلہ میں بی جے پی کی کمزور امیدوارہ مادھوی لتا ‘ کانگریس امیدوار سمیر ولی اللہ اور بی آر ایس امیدوار جی سرینواس یادو ہیں لیکن کوئی امیدوار اس قدر مضبوط نہیں ہے کہ وہ اسد اویسی کا مقابلہ کرسکے اسی لئے کہا جا رہاہے کہ حلقہ حیدرآباد میں مقابلہ ہوچکا ہے محض اکثریت کے حصول کی جدوجہد جاری ہے۔ سٹہ بازار میں جاری گفتگو کا جائزہ لیا جائے تو بی جے پی امیدوارہ مادھوی لتا اسداویسی کے مقابلہ میں سب سے مضبوط دعویدار ہیں لیکن انہیں بی جے پی قائدین کی تائید حاصل نہیں ہورہی ہے ۔ بیرسٹر اسدالدین اویسی اپنے انتخابی جلسو ں میں رائے دہی کے فیصد میں اضافہ کیلئے زور دے رہے ہیں کیونکہ انہیں اندازہ ہے کہ اب کوئی مقابلہ نہیں ہے لیکن اس کے باوجود گذشتہ انتخابات میں جو 2لاکھ 82 ہزار 186 ووٹوں کی اکثریت پائی تھی اس سے زیادہ اکثریت سے کامیابی حاصل کرنا ان کا مقصد ہے۔ حیدرآباد حلقہ سے جملہ 30 امیدوار میدان میں ہیں ۔ ذرائع کے مطابق 129 معذورین اور خصوصی موقف والے افراد نے گھر سے رائے دہی کیلئے درخواست داخل کی ہے ۔ سیاسی مبصرین کے مطابق حلقہ حیدرآباد میں انتخابی مقابلہ میں کوئی دلچسپی باقی نہیں رہی کیونکہ بیشتر جماعتوں نے کمزور امیدواروں کو میدان میں اتارنے اور مجلس بچاؤ تحریک نے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کرکے حیدرآباد سے عوام کی دلچسپی کو ختم کردیا ہے جبکہ سٹہ بازار نے اکثریت کے حصول پر سٹہ لگانے کی گنجائش رکھ کر حیدرآباد کے مقابلہ میں دلچسپی برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔3