سالار تو سالار تھے‘ صلاح الدین اویسی صاحب کی بات نتیجہ سے پہلے نتیجہ ہوتی تھی
حیدرآباد ۔ 28 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : صدر مجلس اسد الدین اویسی کے بارے میں آج کل عوام میں یہ تاثیر بہت زور پکڑ رہا ہے کہ وہ بولتے زیادہ ہیں لیکن کرتے کچھ نہیں ، خاص طور پر وہ جو بھی سیاسی پیش قیاسیاں کرتے ہیں وہ بری طرح ناکام ہوتی ہیں ۔ اسی طرح ناکام ہوتی ہیں جس طرح محکمہ موسمیات شدید بارش کی جب پیش قیاسی کرتا ہے اسی دن یا اُن دنوں میں بارش نہیں ہوتی ۔ اس کے برعکس سالار مرحوم سلطان صلاح الدین اویسی کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ وہ جب بھی کوئی سیاسی پیش قیاسی کرتے تو وہ صد فیصد درست ثابت ہوتی ۔ اس لیے مسلم و غیر مسلم سیاستداں ہو یا عوام یہ ضرور غور کرتے کہ آخر سلطان صلاح الدین اویسی کیا کہتے ہیں ۔ مثلاً عام انتخابات ہوتے تو مرحوم صدر کی پیش قیاسی اہمیت اختیار کرجاتی ۔ لوگوں کو اوپنین پولس یا اگزٹ پولس کا انتظار کرنا نہیں پڑتا حالانکہ اُس وقت مرحوم صدر مجلس کے وسائل یا ذرائع محدود تھے ۔ کرناٹک اسمبلی انتخابات کے دوران اسد الدین اویسی نے ببانگ دہل کہا تھا کہ ملک کی سب سے قدیم پارٹی کانگریس بوڑھی ہوچکی ہے وہ انتخابات نہیں جیت سکتی کرناٹک میں کانگریس کو شکست ہوگی لیکن سارے ملک نے دیکھا کہ کانگریس سے متعلق اسد اویسی کی پیش قیاسی غلط ثابت ہوئی اور جنوبی ہند کی اُس اہم ریاست میں کانگریس نے مودی کی بی جے پی کو شرمناک شکست سے دوچار کیا ۔ کانگریس نے 224 رکنی کرناٹک اسمبلی میں 135 نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے یہ بتادیا کہ اسد اویسی کے جو اندازے ہوتے ہیں وہ بالکل غلط ثابت ہوتے ہیں ۔ اب تلنگانہ اسمبلی انتخابات پر کانگریس کے انتخابی مظاہرہ کے بارے میں اسد اویسی کہتے ہیں کہ میری رائل انفیلڈ میں جو سیٹس ہیں ان سے کم سیٹس پر کانگریس کو کامیابی حاصل ہوگی ۔ اویسی کی پیش قیاسی کے برعکس اب تک 8-10 اوپنین پولس آچکے ہیں جن میں کانگریس کی کامیابی دکھائی جارہی ہے ۔ ایک دو ایسے اوپنین پولس ہیں جس میں بی آر ایس کو برتری دکھائی گئی ۔ اکثر سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ اسد اویسی اور ان کی پارٹی ریاست میں راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کے زیادہ دلچسپی لینے اور انتخابی مہم میں سرگرم ہونے سے خائف ہیں ۔ حالانکہ کے سی آر اور کے ٹی آر کو خائف ہونا چاہئے ۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق اسد الدین اویسی کو یہ اندازہ ہوگیا ہے کہ تلنگانہ میں مسلمان کرناٹک ماڈل پر عمل کرکے ووٹوں کا متحدہ استعمال کرینگے ۔ اضلاع میں تو صاف کہا جارہا ہے کہ مجلس ، بی آر ایس کی انتخابی مہم چلا رہی ہے ۔ چنانچہ اسد اویسی مسلم ووٹرس کو دوبارہ راغب کرنے کی خاطر یہ کہنے لگے ہیں کہ کانگریس آر ایس ایس کی اماّں ہے جبکہ راہول گاندھی ، پرینکا گاندھی کے بیانات اور اقدامات سے سب کو اندازہ ہوگیا ہے کہ آر ایس ایس ، بی جے پی کو کون زیادہ فائدہ پہنچا رہا ہے اور اس کے عوض انہیں کیا انعامات مل رہے ہیں ؟ جہاں تک اسد اویسی کی پیش قیاسیوں کا سوال ہے انہوں نے ببانگ دہل کہا تھا اور مودی حکومت کو چیلنج کیا تھا کہ کشمیر کو خصوصی موقف سے متعلق آرٹیکل 370 ختم کر کے دیکھو ساری دنیا نے دیکھ لیا کہ اس کے بعد مودی حکومت نے آرٹیکل 370 کو ختم کردیا ۔ اسد اویسی نے شہریت ترمیمی قانون پر بھی چیلنج کیا اور مودی ۔ امیت شاہ جوڑی نے اسے پارلیمنٹ میں منظور کروایا ۔ غرض اسد اویسی جو بھی کہتے ہیں اس کا الٹا ہوتا ہے ۔ اس لیے اب ریاست کے عوام خاص کر دانشور طبقہ یہ کہنے لگا ہے کہ اوپنین پولس پر بھروسہ کرنے کی بجائے اسد اویسی کے بیانات کو متضاد یا الٹے تناظر میں دیکھیں اگر وہ کہتے ہیں کہ کوئی پارٹی ہارے گی تو سمجھو وہ پارٹی جیتے گی اگر وہ کہتے ہیں کہ کوئی پارٹی بوڑھی ہوگئی تو سمجھو اس میں نئی جان پڑ گئی ہے ۔ اگر وہ کہتے ہیں کہ فلاں حکومت گرجائے گی تو سمجھو وہ برقرار رہے گی جیسا کہ 2019 کے عام انتخابات میں اور یو پی اسمبلی انتخابات کے بارے میں انہوں نے پیش قیاسی کی تھی جو غلط ثابت ہوئی ۔ اب تو لوگ انہیں
اللہ اللہ کر بھیا ، اللہ جی سے ڈر بھیا
کا مشورہ دینے لگے ہیں ۔