اسد اویسی پر حملہ کا واقعہ اُتر پردیش کے سیاسی حلقوں میں موضوع بحث

   

ہندی اخبارات کی تحقیقی رپورٹس، اخبار’ دینک بھاسکر ‘ کے پولیس سے سوالات، 3 مختلف کہانیاں

حیدرآباد۔/6 فروری، ( سیاست نیوز) اُتر پردیش میں دوبارہ اقتدار کے حصول کیلئے بی جے پی جبکہ بی جے پی کو اقتدار سے بیدخل کرتے ہوئے اُتر پردیش پر حکمرانی کے نشانہ کے ساتھ سماج وادی پارٹی، دونوں ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہیں۔ دن بہ دن بدلتی سیاسی صورتحال نے بی جے پی اور سماج وادی پارٹی کو رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے میڈیا گھرانوں کی تائید حاصل کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ اُتر پردیش میں ان دنوں مجلس کے صدر اسد اویسی پر حملہ کا واقعہ عوام میں ہر نکڑ، ہر محفل میں موضوع بحث بن چکا ہے۔ سماج وادی پارٹی کی تائید کرنے والے ’ دینک بھاسکر‘ اخبار نے اسد الدین اویسی پر حملہ کے واقعہ پر کئی سوال اُٹھائے ہیں۔ دوسری طرف ایک اور مشہور ہندی اخبار بی جے پی کے حق میں کھل کر مہم چلارہا ہے اور اس اخبار کے نزدیک اسد اویسی پر حملہ میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ الغرض دونوں اہم اخبارات اپنی تائیدی پارٹیوں کو فائدہ پہنچانے کی مہم پر ہیں۔ دینک بھاسکر نے اسد اویسی پر حملہ کے واقعہ کے سلسلہ میں ایک بڑا خلاصہ کرتے ہوئے رپورٹ شائع کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملہ کے واقعہ کے تمام حقائق منظر عام پر آنے چاہیئے۔ اخبار کے مطابق جائے واردات کے سی سی ٹی وی فوٹیج، اسد اویسی کے بیان اور ٹوئیٹ میں کافی تضاد موجود ہے اور تینوں علحدہ کہانیاں پیش کررہے ہیں۔ پولیس اسٹیشن میں واقعہ کے 12 گھنٹے کے بعد بنائی گئی دوسری ایف آئی آر پر بھی اخبار نے سوال اٹھائے ہیں۔ اخبار کا کہنا ہے کہ تینوں کڑیاں ایک دوسرے سے نہیں جُڑ پارہی ہیں اور ہر ایک کی بات میں تضاد موجود ہے۔ اسد اویسی نے ٹوئیٹ میں ایک پستول کو موقع واردات پر گرا ہوا دکھایا جبکہ پولیس نے اپنے ریکارڈ میں حملہ آوروں سے پستول برآمد کرنے کی بات کہی ہے۔ معاملہ جب عدالت میں جائے گا تو اخبار کے مطابق شک اور شبہ کا فائدہ حملہ آوروں کو مل سکتا ہے۔ اخبار نے لکھا کہ اس واقعہ کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن اُتر پردیش کی عوام سمجھ دار ہے۔ سی سی ٹی وی کی تصویر میں بتایا گیا کہ شبھم نے پہلی گولی چلائی بعد میں سچن نے دوسری گولی گاڑی پر چلائی۔ واقعہ کے دو فوٹیج سامنے آئے اور کہانی میں جھول نظر آرہا ہے۔ ’ دینک بھاسکر‘ نے اپنی رپوٹ میں 6 جھوٹ کی نشاندہی کی ہے۔ اسد اویسی کا کہنا ہے کہ دھماکہ کی آواز کے بعد انہیں فائرنگ کا علم ہوا اور انہوں نے سچن کو گولی چلاتے ہوئے نہیں دیکھا جبکہ پولیس کے مطابق سچن کو گولی چلاتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ اسد اویسی نے رات 9-49 بجے ٹوئیٹ کرتے ہوئے جائے واردات پر ایک پستول پڑی ہوئی دکھائی لیکن پولیس نے سچن کو رات 11 بجے اور شبھم کو صبح 4 بجے گرفتار کرکے پستول برآمد کیا۔ موقع واردات پر دکھائی دینے والی پستول پولیس ریکارڈ سے غائب کیسے ہوئی ؟ ۔ ایف آئی آر کے مطابق سچن کا فیس بک پیج دیش بھکت سچن ہندو کے نام سے ہے۔ سچن اور دھولانہ حلقہ سے چناؤ لڑنے والے مجلس کے عارف سے سچن کی دوستی کا انکشاف ہوا ہے۔ پہلی ایف آئی آر جو یامین نے درج کرائی اس میں واردات کے گواہوں کے نام درج ہیں لیکن پولیس کی دوسری ایف آئی آر میں سچن اور شبھم کی گرفتاری، واردات میں استعمال ہتھیار برآمد کرنے کا منظر لکھا گیا تو کبھی رات اور کبھی علی الصبح کہر کا ماحول بتایا گیا۔ سچن نے پولیس سے کہا کہ 22 جنوری کو غازی آباد میں حملہ کا منصوبہ بنایا تھا۔ واردات کے دن وہ میرٹھ اور کٹھور کے جلسہ میں گیا تھا لیکن وہاں بھیڑ کے سبب موقع نہیں ملا۔ اسے موقع ٹول گیٹ پر ہی نظر آیا لیکن کٹھور سے ٹول گیٹ کے درمیان 70 کیلو میٹر میں تین جگہ ایسی آتی ہیں جہاں گاڑی ٹول بوتھ سے دھیمی رفتار میں ہوجاتی ہے۔ وہاں نہ ہی سی سی ٹی وی ہے اور نہ ہی لوگ موجود رہتے ہیں۔ ’ دینک بھاسکر‘ نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ گولیوں کی تعداد کے بارے میں بھی تضاد ہے۔ شبھم نے ایک گولی چلائی پھر فائر نہیں ہوا ۔ اس کے پاس 10 گولیاں تھیں 9 برآمد ہوئیں۔ سچن کے پاس 12 گولیاں تھیں جبکہ 7 برآمد ہوئیں۔ اس نے 5 گولیاں استعمال کی۔ اسد اویسی کی گاڑی پر 2 گولیاں لگی ہیں تو باقی 3 کہاں لگیں۔ پولیس کے پاس اس کا جواب نہیں ہے۔