اسد اویسی کا حال ’’بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ‘‘ کی طرح

   

ریونت ریڈی کا ریمارک، بی آر ایس اور بی جے پی کی تائید نہ کرنے مجلسی قیادت کو مشورہ
حیدرآباد ۔13۔اکتوبر (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے صدر مجلس اسد اویسی کو مشورہ دیا کہ وہ بی آر ایس ۔ بی جے پی اتحاد کی تائید ختم کردیں اور تلنگانہ کے اقلیتوں کی بھلائی کے حق میں فیصلہ کریں۔ گاندھی بھون میں بی آر ایس قائدین کی کانگریس میں شمولیت کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ اسد اویسی کی حالت دیکھ کر انہیں دکھ ہوتا ہے ۔ ان کا حال ’’بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ‘‘ کا ہوچکا ہے۔ نریندر مودی اور کے سی آر نے درپردہ اتحاد کرلیا ہے اور اسد اویسی بی آر ایس کی مسلسل تائید کر رہے ہیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ مودی اور کے سی آر کے درمیان شادی کی بات چیت ہوچکی ہے اور دعوت نامہ بھی تیار ہے ، ایسے میں اسد اویسی کے سی آر کی تعریف پر تعریف کر رہے ہیں۔ آخر اس سے آپ کو کیا فائدہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسد اویسی ایسے غلط کام نہ کریں اور اقلیتی بھائیوں کو دھوکہ نہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 9 برسوں میں مجلسی قیادت کی باتوں میں آکر اقلیتوں نے بار بار کے سی آر کو ووٹ دیا لیکن اقلیتوں کو دھوکہ دیا گیا ۔ ریونت ریڈی نے اسد اویسی سے سوال کیا کہ مسلمانوں کو کتنے ڈبل بیڈروم مکانات الاٹ ہوئے ؟ غریب اور بیروزگار مسلم نوجوانوں کو اقلیتی فینانس کارپوریشن سے کتنی مدد ملی ؟ انہوں نے کہا کہ جب روزگار نہیں ، ڈبل بیڈروم مکان نہیں اور تعلیمی فیس نہیں تو پھر بی آر ایس کی تائید کیوں کی جائے ۔ کے سی آر کو مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کے وعدہ پر عمل نہیں کیا ، پھر کس لئے مجلسی قیادت کے سی آر کو ووٹ دینے کی اپیل کر رہی ہے ۔ انہوں نے اسد اویسی کو مشورہ دیا کہ سنجیدگی سے سوچیں اور اقلیتوں کو کے سی آر کی تائید کے نام پر دھوکہ نہ دیں۔ انہوں نے ریمارک کیا کہ کے سی آر اور مودی ایک ہوچکے ہیں۔ نظام آباد میں نریندر مودی نے کہا کہ این ڈی اے میں شمولیت کی درخواست کے ساتھ کے سی آر ان سے رجوع ہوئے تھے۔ دوسرے دن کے ٹی آر نے کہا کہ بی جے پی کے سابق صدر ڈاکٹر لکشمن نے 2018 ء میں مفاہمت کے ساتھ الیکشن لڑنے کی پیشکش کی تھی۔ دونوں کے بیانات سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ بی جے پی اور بی آر ایس میں شادی طئے ہوچکی ہے ، صرف نکاح کیلئے قاضی کا انتظار ہے۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ مجلسی قیادت کی باتوں میں آئے بغیر حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کریں اور کے سی آر کی تائید ترک کریں۔