مذہبی پلیٹ فارم کا سیاسی اغراض کیلئے استعمال، مخالف اقلیت جگن کی تائید افسوسناک
حیدرآباد۔/26 ستمبر، ( سیاست نیوز) آندھرا پردیش قانون ساز کونسل کے سابق صدرنشین و تلگودیشم قائد احمد شریف نے صدر مجلس اسد الدین اویسی کی جانب سے چندرا بابو نائیڈو کے خلاف بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اور اسد الدین اویسی کو چیلنج کیا کہ ہمت ہو تو آندھرا پردیش میں انتخابات میں مقابلہ کرکے دکھائیں۔ امراوتی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے احمد شریف نے کہا کہ حیدرآباد میں رہتے ہوئے آندھرا پردیش کی سیاست کے بارے میں اظہارخیال کرنا مضحکہ خیز ہے۔ اسد اویسی کے بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ چندرا بابو نائیڈو کے خلاف ان کے دل میں کس قدر نفرت اور انتقامی جذبہ ہے۔ جیل میں چندرا بابو نائیڈو کے خوش رہنے سے متعلق اسد اویسی کے ریمارک پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے احمد شریف نے سوال کیا کہ جیل کوئی آرامگاہ یا لاڈج ہے جہاں پُرسکون رہا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈوکی غیرقانونی گرفتاری
کی وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے سوا تمام پارٹیوں نے مذمت کی ہے۔ جگن موہن ریڈی کی پارٹی کو اسد اویسی نے بہتر قرار دیا ہے لیکن ان کا بیان آخر کس بنیاد پر ہے۔ مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرتے ہوئے اسد اویسی نے جگن موہن ریڈی کی تائید کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلگودیشم کے دور اقتدار میں اقلیتوں کی ترقی کیلئے کئی قدم اٹھائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے دور حکومت میں اقلیتوں کے مسائل اور ان کی ترقی کو نظرانداز کردیا گیا باوجود اس کے اسد اویسی مسلمانوں سے تائید کی اپیل کررہے
ہیں۔ گذشتہ چار برسوں میں ایک ہزار سے زائد اقلیتوں پر آندھرا پردیش میں حملوں کے واقعات پیش آئے۔ انہوں نے کہا کہ اسد اویسی دراصل چندرا بابو نائیڈو کے خلاف نفرت اور تعصب کے جذبہ کے تحت مخالفت کررہے ہیں۔ ان میں ہمت ہو تو آندھرا پردیش آکر مقابلہ کریں۔ احمد شریف نے کہا کہ آندھرا پردیش میں داخلہ اور اپنے امیدوار کھڑے کرنے کی اسد اویسی میں ہمت نہیں ہے۔ احمد شریف نے افسوس کا اظہار کیا کہ میلادالنبی کے مبارک موقع پر مذہبی جلسہ عام میں سیاسی تقریر کرنا افسوسناک ہے۔ مجلسی قیادت نے ہمیشہ مذہبی پلیٹ فارم کو سیاسی اغراض کیلئے استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کو گمراہ کیا ہے۔ اسد اویسی دراصل آندھرا میں جگن اور تلنگانہ میں کے سی آر کی تائید کررہے ہیں جبکہ یہ دونوں بی جے پی کے غیر معلنہ حلیف ہیں۔