اسرئیل ،کورونا کے خلاف جنگ میں شامل عرب ڈاکٹر حسین

   

رملہ۔29 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) دنیا بھر میں مسلم ڈاکٹر کی کورونا کے خلاف جنگ میں خدمات کو سراہا جارہا ہے ایسا ہی ایک نام اسرائیل سے سامنے آیا ہے ۔فروری سے لے کر اب تک اسرائیلی عرب ڈاکٹر ختام حسین ہر صبح کو سورج طلوع ہونے سے پہلے اٹھ کر اپنے کام کے لیے نکلتی ہیں جو وہ کورونا وائرس کی وبا سے لڑنے میں انجام دے رہی ہیں۔خبر رساں ادارے کے مطابق 44 سالہ خاصم حسین اسرئیل کی پسماندہ مانے جانے والی عرب طبقہ کی اہم رکن ہیں، جو صحت کے موجودہ بحران میں نہایت اہم کردارادا کر رہی ہیں۔ختام حسین اسرائیل کے شہر حائفہ کے نزدیک قائم رامبم ہسپتال میں کورونا وائرس سے نمٹنے والے یونٹ کی سربراہ ہیں۔ ملک کے شمالی حصے کے سب سے بڑے دواخانہ میں وہ کئی مہینوں سے روزانہ 12 گھنٹوں تک ڈیوٹی انجام دے رہی ہیں۔ انہو ں نے کہا ہے کہ یہ ایک نہایت ہی مشکل کام ہے۔ کوئی دن ایک طرح کا نہیں ہوتا۔ ہماری زندگیاں پلٹ کر رہ گئی ہیں۔واضح رہے کہ اسرائیل میں کورونا وائرس کے 15 ہزار سے زائد معاملات پورٹ ہو چکے ہیں اور اس وبا سے ہونے والی اموات کی تعداد 202 تک پہنچ گئی ہے۔تاہم ختام حسین نے کہا ہے کہ اس عالمی وبا سے لڑتے ہوئے انہوں نے کئی مریضوں کے ساتھ یادگار لمحات گزارے ہیں۔ایسے ہی ایک واقعے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایک ضعیف جوڑا وائرس کی وجہ سے شدید بیماری کی حالت میں دواخانہ لایا گیا۔ ان میں سے شوہر کی حالت جلدی خرابی کی طرف جانے لگی تو دواخانہ کے عملے نے انہیں اور ان کی اہلیہ کو آخری بار ملنے کی اجازت دی جس کے بعد شوہر کا انتقال ہوگیا۔اور اس واقعہ نے سب کو رنجیدہ کردیا۔انسان ہونے کی حیثیت سے یہ مشکل ہے۔