تاریخی مسجد ’العمری الکبیر‘ بھی شہید‘ حملہ میں چرچ بھی تباہ‘ متعدد ہلاک
غزہ ملبے کے ڈھیر میں تبدیل‘ مغربی علاقوں میں بمباری سے بڑی تباہی
یروشلم: حماس کے الاقصی فلڈ آپریشن کے بعد سے اسرائیل کی جانب سے غزہ سمیت دیگر علاقوں پر جاری فضائی بمباری اور بربریت میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 4 ہزار سے تجاوز کر گئی۔میڈیا کے مطابق غزہ اور مغربی علاقوں میں اسرائیلی فوج کی سینکڑوں فضائی کارروائیوں اور راکٹ داغنے کے نتیجے میں کئی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں ہیں۔رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر کے بعد سے اب تک اسرائیلی فوج کی بمباری سے شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 4 ہزار سے تجاوز کرگئی جن میں 1400 سے زائد بچے اور 1600 خواتین شامل ہیں، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں 17 ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔علاوہ ازیں اسرائیلی فورسز کی کارروائیوں میں اب تک 16 صحافی شہید جبکہ 20 سے زائد کو صہیونی فوج گرفتار کرچکی ہے۔اسرائیل نے فلسطینیوں پر مظالم کی میڈیا کوریج روکنے کی کوششیں شروع کردی اور سیکیورٹی خدشات کی آڑ میں فلسطینی و عرب نشریاتی اداروں کو بند کرنے کی دھمکی بھی دے دی۔اسرائیلی حکومت نے مغربی کنارے کے شہر رملہ میں سیکیورٹی خدشات کے بہانے تمام میڈیا ادارے بند کرنے کی حکومتی منظوری کے فیصلے سے خبردار کردیا۔اْدھر اسرائیلی حکام نے فوری طور پر غزہ کے تمام ہاسپٹلس کو خالی کرنے کا حکم بھی دے دیا ہے۔ اسرائیلی بمباری میں اسپتالوں اور ایک چرچ کے بعد اب ایک تاریخی مسجد کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جس میں مسجد العمری الکبیر شہید ہوگئی۔میڈیاکے مطابق اسرائیل نے غزہ اور مغربی کنارے کے رہائشی علاقوں اور مذہبی مقامات پر وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔مغربی کنارے کے علاقے نور الشمس کے ایک پناہ گزین کیمپ پر بمباری کی گئی جس میں 12 افراد شہید ہوگئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔اسرائیل نے مغربی کنارے میں ہی کئی عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا جن پر حماس کے جانبازوں کی موجودگی کا شک تھا تاہم حملے کے وقت عمارتیں خالی ہونے کے باعث جانی نقصان نہیں ہوا۔اسی طرح غزہ کے شمالی علاقے میں کی گئی بمباری میں ایک چرچ بھی تباہ ہوا جس میں 12 افراد لقمہ اجل بن گئے اور درجن سے زائد زخمی ہیں۔اسرائیلی فوج نے اس پر ہی بس نہ کی بلکہ شمالی علاقے میں ہی ایک تاریخی مسجد العمری الکبیر پر بمباری کی جس میں مسجد مکمل طور پر منہدم ہوگئی۔ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ نے حماس کی مدد کی تو اسرائیلی طیاروں نے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر بھی بمباری کی۔اسرائیلی دھمکیوں کے باعث شمالی غزہ سے انخلا کرنے والوں کی تعداد 6 لاکھ سے تجاوز کرگئی اور ان 6 لاکھ پناہ گزینوں کے لیے کوئی ٹھکانہ دستیاب نہیں۔اسرائیلی ناکہ بندی کی وجہ سے لاکھوں افراد پانی، خوراک اور بجلی سے محروم ہیں۔
اسرائیل کی وحشیانہ بمباری جاری، مزید 30 فلسطینی شہید
یروشلم : غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری جاری ہے۔ بمباری سے خواتین اور بچوں سمیت مزید 30 فلسطینی شہید ہو گئے جبکہ 50 سے زائد زخمی ہوئے۔غزہ پر اسرائیلی کی بمباری سے شہید ہونے والوں کی تعداد 4137 ہو گئی ہے جبکہ حماس کے حملوں میں اب تک 1400 سے زیادہ اسرائیلی ہلاک ہوچکے ہیں۔ اسرائیل نے القدس اسپتال خالی کرنے کی وارننگ جاری کردی۔دوسری جانب اسرائیل میں امریکی سفارتخانے سے جاری بیان کے مطابق غیر ملکیوں کے انخلا کے لیے رفح کراسنگ آج کھولی جائے گی۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کراسنگ کھلنے سے غزہ میں اسرائیلی بمباری سے متاثر فلسطینوں تک امداد پہنچانے کی اجازت ہوگی یا نہیں۔رفح کراسنگ اسرائیل سے کھانے پینے اور ضرورت کی دیگر اشیا غزہ پہنچانے کا واحد ذریعہ ہے۔ اسرائیل کی جانب سے رفح کراسنگ بند کرنے کے بعد غزہ میں کھانے پینے کی اشیا، دواؤں اور دیگر ضروریات زندگی کی شدید قلت ہوگئی ہے۔