اسرائیلی جارحیت پر ہندوستان کا موقف قابل تحسین

   

اسرائیلی تشدداورتوسیع پسندانہ عزائم پر عالمی برداری لگام لگائے : انڈین فرینڈس فار فلسطین

کلکتہ:فلسطین اور اسرائیل تنازعہ سے متعلق اقوام متحدہ میں حکومت ہند کے موقف کی سراہنا کرتے ہوئے مختلف تنظیموں اور مختلف شعبہائے حیات سے وابستہ اہم شخصیات پر مشتمل انڈین فرینڈس فار فلسطین نے آج ورچوئیل پریس کانفرنس میں حکومت ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطین اور اسرائیل کے تنازع کو حل کرنے اور اسرائیلی جارحیت پر لگام کسنے کے لئے ہندوستان بین الاقوامی برداری کے سامنے کلیدی کردار ادا کرنا چاہیے ۔سابق ممبر پارلیمنٹ اور ایگزیکٹیو ممبر پارلیمنٹرین آف القدس کے سی تیاگی نے اقوام متحدہ میں ہندوستان کے موقف کی سراہنا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان نے انسانیت کی بنیاد پر اسرائیلی جارحیت کی حمایت بغیر جنگ بندی اور اس مسئلہ کو حل کرنے کی جو تجویز پیش کی ہے وہ قابل تعریف ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان ہمیشہ مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ رہا ہے ۔یہ خوش آئند بات ہے کہ موجودہ حکومت نے بھی ہندوستان کی دیرینہ روایات کے مطابق عالمی سطح پر اپنے موقف کو پیش کیا ہے ۔یواین آئی کے ایک سوال کے جواب میں کے سی تیاگی نے کہا کہ حکومت ہند کے لئے یہ بہت ہی اچھا موقع ہے کہ وہ عالمی سطح پراقوام متحدہ کے پلیٹ فارم یاکوئی اور فارم سے اس تنازع کو حل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے اور اپنی عالمی اہمیت منوائے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی حلیف جماعت کے نمائندے کے طور پر بھی یہ مطالبہ میںحکومت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ۔کے سی تیاگی نے کہا کہ اسرائیل ایک قابض ملک ہے اور دوسری عالمی جنگ سے قبل اس کا کوئی وجود نہیں تھا۔یہ سرزمین فسلطینی بھائیوں کا ہے ۔عالمی استعماری طاقتوں نے ایک سازش کے تحت فلسطینیوں کی زمین چھین کر اسرائیل نام سے ایک ملک کو قائم کیا اور پھر اسرائیل کی اس طرح مدد کی آج فلسطینی بے گھر ہوچکے ہیں ۔انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ جمال عبد الناصر کے بعد عرب دنیا میں کوئی ایسا لیڈر نہیں پیدا ہوا جو عالم عرب کو متحد کرکے اسرائیل کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے اقدامات کرسکیں ۔اس قبل پریس کانفرنس کے کنوینر اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے کارگزار جنرل سیکریٹری مولا نا خالد سیف اللہ رحمانی نے مشترکہ قرار دادپیش کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ انتشار اسرائیل کی جارحانہ پسندی کا نتیجہ ہے ۔اس نے پہلے سے ہی اردن، شام ،مصراور فسلطین کی سرزمین کو چھین رکھا ہے اور مسجد اقصی و اس کے آس پاس کے علاقے شیخ جراح سے مسلمانوں کو بے دخل کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔فلسطینیوں نے اس وقت کارروائی کی ہے جب اسرائیل نے غاضبانہ طریقے سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی کوشش کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مسجد اقصی سے پورے عالم اسلام کے جذبات وابستہ ہیں اور یروشلم تینوں مذاہب اسلام، عیسائی اور یہودی کے لئے مقدس ہے ۔