فلسطینی عوام کی زندگیوں کا تحفظ کرنا اقوام متحدہ سے سرگرم رول ادا کرنے کی اپیل
ریاض: غزہ کی صورتحال بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ جس تیزی سے حالات بگڑ رہے ہیں ان پر قابو پانے کوششیں اتنی تیز نظر نہیں آتیں۔ اس سلسلہ میں ایک اور امید کی کرن نظر آئی وہ یہ کہ اسلامی تعاون تنظیم ( او آئی سی ) کی ایگزیکٹیو کمیٹی چہارشنبہ کو جدہ میں ایک غیر معمولی اجلاس میں غزہ کی صورتحال کا جائزہ لے گی۔سعودی عرب نے اجلاس اوآئی سی کے موجودہ سیشن کے سربراہ اور او آئی سی ایگزیکٹیو کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے غزہ اور گرد ونواح میں فوجی کشیدگی، شہریوں اور علاقائی سلامتی واستحکام کو لاحق خطرات پر تبادلہ خیال کیلئے ’اوپن اینڈڈ‘ وزارتی اجلاس طلب کیا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ایگزیکٹیو کمیٹی کا غیر معمولی اجلاس آئندہ چہارشنبہ کو جدہ میں او آئی سی جنرل سکریٹریٹ میں ہوگا‘۔او آئی سی غزہ اور اس کے نواح میں عسکری کارروائیوں اور بڑھتی کشیدگی کا جائزہ لے گی جو خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرے کا باعث بن رہی ہے۔قبل ازیں او آئی سی جنرل سیکریٹریٹ نے ایک بیان میں غزہ میں اسرائیلی فوج کی جارحیت کی مذمت کا اعادہ کیا جس میں سینکڑوں فلسطینی ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں۔ او آئی سی نے اسرائیل کو بین الاقوامی قراردادوں کو نظر انداز کرنے کا ذمہ دار ٹھرایا ہے۔او آئی سی نے عالمی برادری،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اپیل کی کہ ’وہ اسرائیلی جارحیت بند کرانے، فلسطینی عوام کو تحفظ فراہم کرنے اور اسرائیل کا غاصبانہ قبضہ ختم کرانے ٹھوس سیاسی عمل کی سرپرستی کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرے‘۔ ’خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام اور مشرقی القدس کو اس کا دارالحکومت بنانے اقدامات کیے جائیں‘۔ او آئی سی نے سلامتی کونسل سے کہا کہ ’وہ عرب امن فارمولے اور بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل کے تصور کی بنیاد پر جامع اورمنصفانہ امن قائم کرائے۔