اسرائیلی جیلوں میں بند فلسطینیوں کو پھانسی دینے کا خدشہ !

   

نئی قانون سازی پر اظہار تشویش‘23جیلوں میں دس ہزار سے زائد فلسطینی قید

تل ابیب ۔ 26؍مارچ ( ایجنسیز )انسانی حقوق کے گروپوں کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 10,000 فلسطینی اسرائیلی جیلوں اور حراستی مراکز میں قید ہیں، جن میں سے بہت سے انتظامی حراست کے تحت بغیر کسی الزام یا مقدمہ کے قید و بند ہیں۔ ان افراد کو بڑے پیمانے پر قیدی یا زیر حراست کہا جاتا ہے حالانکہ سوشل میڈیا کے کچھ ذرائع اور انسانی حقوق کی وکالت کرنے والے گروپ انہیں “یرغمالی” کہتے ہیں۔اسرائیلی کنیسٹ میں ایک مجوزہ بل کے بارے میں موجودہ خدشات پائے جاتے ہیں جو بعض جرائم کیلئے سزائے موت کے اطلاق کی اجازت دے گا۔اس مجوزہ قانون کے خلاف مختلف گوشوں سے آوازیں اٹھائی جارہی ہیں۔یہ قانون راست طور پر ماروان البرغوطی جیسے اہم فلسطینی قائد کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے جن کا اکٹوبر 2002میں اغوا کیا گیا اور وہ گذشتہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ سے اسرائیل کی جیل میں ہیں۔ 2023 سے ان پر جیل حکام کی جانب سے تشدد کیا جارہا ہے ۔ ان کی پسلیاں توڑ دی گئیں اور بارہا زخمی کیا گیا ہے۔ان کے خاندان کو دھمکیاں دی جاتی رہیں اور وہ نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں ۔اقوام متحدہ کی جانب سے بین الاقوامی تنقید اور انتباہات بھی سامنے آئے ہیں۔ تاہم ایسی کوئی سرکاری معلومات نہیں ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ ان قیدیوں کی اجتماعی پھانسی فی الحال جاری ہے یا طے شدہ ہے۔پھانسی کی اصطلاح کو بعض ذرائع نے حراستی مراکز میں مبینہ طور پر طویل طبی غفلت اور بدسلوکی کے تناظر میں بھی استعمال کیا ہے جسے وہ سست پھانسی کہتے ہیں۔اس وقت اسرائیل کی 23جیلوں میں 10,800فلسطینی ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں ۔ کئی بیمار بھی ہیں ۔سینکڑوں فلسطینیوں کو بغیر کسی الزام کے حراست میں رکھا گیا ہے ۔نئے قانون سے اس تشویش میں اضافہ ہورہا ہے کہ اس کے ذریعہ فوری پھانسی دینے کا قانونی موقف حاصل نہ ہوجائے۔فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ یہ لمحہ انتہائی نازک ہے کیونکہ اس قانون کی منظوری کی صورت میں جو کچھ پہلے سے جیلوں میں زیادتی ہورہی ہے اس کو قانونی حیثیت حاصل ہوجائے گی۔ بعض تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس سے قبل کے بہت دیر ہوجائے اس کو فوری روکنے کی ضرور ت ہے اور اس کیلئے حکومتوں اور نمائندوں سے رابطہ کرتے ہوئے فوری کارروائی پر زور دینا چاہئیے ۔