اسرائیلی جیل میں فلسطینی خواتین کیساتھ غیر انسانی سلوک

   

تل ابیب : اسرائیل کی دامون جیل میں 80 فلسطینی خواتین قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں بھوکا رکھا گیا۔فلسطینی قیدیوں کی انجمن کے وکلاء کے دامون جیل کے دورہ اور وہاں موجود قیدیوں سے ان کی ملاقات کے بعد فلسطینی خواتین کی صورت حال کے حوالے سے ایک تحریری بیان شائع کیا گیا جن میں سے زیادہ تر کا تعلق غزہ پٹی سے ہے۔بتایا گیا کہ دامون جیل میں 80 خواتین قیدی ہیں جن میں سے زیادہ تر کا تعلق غزہ پٹی سے ہے، باقی کا تعلق مغربی کنارے، القدس اور اسرائیل کے شہروں سے ہے۔بیان میں کہا گیا کہ جیل میں فلسطینی خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ان کی توہین اور تذلیل کی گئی اور انہیں بھوکا مارا گیا۔یہ بھی بتایا گیا کہ وارڈز میں بہت ہجوم تھا ان میں سے زیادہ تر کو فرش پر سونے پر مجبور کیا گیا تھااور جیل انتظامیہ نے کمبل اوڑھنے کی بھی اجازت نہیں دی تھی۔ کچھ نے اب بھی وہی کپڑے پہنے ہوئے ہیں حالانکہ انہیں قید ہوئے ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور جیل انتظامیہ نے انہیں کپڑے پہننے کی اجازت نہیں دی۔ غزہ کے قیدیوں کو ایساپانی دیا گیا جو پینے کے قابل نہیں تھا۔بتایا گیا کہ جیل انتظامیہ کی جانب سے 4 ماہ کی حاملہ خاتون کو جلایا گیا اورکم کھانا دیا گیا۔