جنگ کو شروع ہوئے 22 ماہ کا عرصہ، مجموعی طور پر 61,800 فلسطینیوں نے جامِ شہادت نوش کیا
غزہ ۔ 17 اگست (ایجنسیز) جنگ زدہ غزہ پٹی کی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق کل ہفتے کے روز اسرائیلی حملوں میں مزید کم از کم 40 فلسطینی ہلاک ہو گئے۔ اسی دوران غزہ سٹی میں ایک نئی اور وسیع تر اسرائیلی فوجی کارروائی کے آثار بھی واضح ہوتے جا رہے ہیں۔غزہ پٹی سے اتوار 17 اگست کو ملنے والی رپورٹوں میں حماس کے زیر انتظام اس خطے کی سول ڈیفنس ایجنسی نے کہا ہے کہ کل ہفتہ 16 اگست کو اس گنجان آباد فلسطینی ساحلی پٹی کے مختلف حصوں میں اسرائیلی فوج کے زمینی اور فضائی حملوں میں مزید کم از کم 40 افراد مارے گئے۔ غزہ پٹی کے سب سے بڑے شہر غزہ سٹی کی سویلین آبادی سے اسرائیلی فوج کے یہ مطالبات بھی بظاہر واضح ہوتے جا رہے ہیں کہ باقی ماندہ شہری آبادی بھی وہاں سے نکل جائے۔اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے ابھی گزشتہ ہفتے ہی اعلان کیا تھا کہ ان کی سکیورٹی کابینہ نے منظوری دے دی ہے کہ اسرائیل غزہ سٹی کو پوری طرح دوبارہ اپنے کنٹرول میں لے لے۔غزہ پٹی کی جنگ کو شروع ہوئے اب تک 22 ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ 7 اکتوبر 2023ء کو اسرئیل میں حماس کے ایک بڑے دہشت گردانہ حملے کے بعد شروع ہونے والی اس جنگ میں غزہ پٹی کی وزارت صحت کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 61 ہزار 800 سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی۔حماس کے اسرائیل میں حملے میں 1200 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے، جن میں سے زیادہ تر عام شہری تھے، جبکہ حملے کے بعد غزہ لوٹتے ہوئے فلسطینی عسکریت پسند 250 سے زائد افراد کو یرغمال بنا کر اپنے ساتھ بھی لے گئے تھے۔
ان یرغمالیوں میں سے درجنوں اب بھی حماس کی قید میں ہیں، جن میں سے متعدد کے بارے میں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اب تک ہلاک ہو چکے ہیں۔اسی دوران اسرائیلی وزارت دفاع کے فلسطینی علاقوں سے متعلقہ شہری امور کے نگران ادارے کوگاٹ (COGAT) نے آج اتوار کے روز کہا کہ اسرائیلی فوج غزہ پٹی میں بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کو آج سے مزید خیمے اور عارضی رہائش گاہوں کے لیے استعمال ہونے والے دیگر ساز و سامان مہیا کرنا شروع کر دے گیاسرائیلی وزارت دفاع کے ذیلی ادارے کوگاٹ کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، ’’جنوبی غزہ پٹی کے جنگی علاقوں سے شہری آبادی کی منتقلی کے منصوبوں کے تحت اسرائیلی فوج وہاں مزید خیموں اور دیگر سامان کی ترسیل بحال کر رہی ہے۔‘‘اس پیش رفت پر اپنے ردعمل میں فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس نے ’’مذمت کرتے ہوئے‘‘ کہا کہ یہ ’’اسرائیلی اعلان غزہ سٹی پر قبضے کے لیے سفاکانہ حملے کی تیاریوں کا حصہ ہے۔‘‘غزہ سٹی کے رہائشی کئی مقامی باشندوں نے حالیہ دنوں میں نیوز ایجنسی اے ایف ہی کو بتایا تھا کہ اسرائیلی فوج اس شہر کے زیتوں اور دیگر علاقوں پر اپنے فضائی حملے اس لیے تیز کر چکی ہے کہ وہاں سے شہری آبادی کے انخلا کے بعد اس شہر پر فوجی قبضے کی راہ ہموار کی جا سکے۔