واشنگٹن ۔ 13 ستمبر (ایجنسیز) قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی نیویارک میں قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی کے ساتھ عشائیہ پر ملاقات کی۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق قطر پر اسرائیلی فضائی حملے کے بعد پہلی بار امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور قطری وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی کی عشائیے پر ملاقات ہوئی جس میں نائب صدر جے ڈی وینس سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو، امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیووٹکوف اور صدر دیگر اعلیٰ مشیران بھی شامل تھے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس عشائیہ کی تصدیق کی گئی ہے۔ اگرچہ اس ملاقات کی سرکاری تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ دوحہ حملے اور غزہ جنگ بندی اس بات چیت کے بنیادی نکات تھے۔ ملاقات کے فوری بعد صدر ٹرمپ نے اپنے وزیر خارجہ کو اسرائیل روانہ کرنے کی ہدایت دی تاکہ وہ وزیراعظم نیتن یاہو کو خصوصی پیغام پہنچا سکیں۔ یہ اقدام اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ امریکہ اس معاملہ پر اسرائیل کے یکطرفہ اقدامات سے مطمئن نہیں ہے۔ چند روز قبل صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ٹیلی فونک رابطہ میں بھی دوحہ حملے پر ناپسندیدگی ظاہر کی تھی اور واضح کیا تھا کہ اس طرح کے اقدامات نہ امریکہ کے مفاد میں ہیں اور نہ اسرائیل کے۔ قطری مشن کے نائب سربراہ حامہ المفتح نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مختصر پیغام میں بتایا کہ صدر ٹرمپ اور قطری وزیراعظم کے ساتھ شاندار عشائیہ کا اختتام ہوا ہے۔