تل ابیب ۔ 5 اگست (ایجنسیز) اسرائیل کی کابینہ نے اٹارنی جنرل کو ہٹانے کیلئے متفقہ طور پر ووٹ دیے ہیں جس کے بعد وزیراعظم نیتن یاہو اور عدلیہ کے درمیان طویل عرصے سے جاری تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ناقدین نے اس صورت حال کو جمہوری اداروں کیلئے خطرہ قرار دیا ہے۔نیتن یاہو اور ان کے حامیوں نے اٹارنی جنرل گالی بہروا میارا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ منتخب حکومت کے فیصلوں کو روک کر اختیارات سے تجاوز کر رہے ہیں، جن میں سکیورٹی ایجنسی کے ڈومیسٹک سربراہ کی برطرفی کا اقدام بھی شامل ہے جو بظاہر ایک غیر سیاسی دفتر ہے۔اس حوالے سے اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ یہ مفادات کے ٹکراؤ کا معاملہ ہے کیونکہ نیتن یاہو اور ان کے کئی سابق ساتھیوں کو جرائم کی تحقیقات کا سامنا ہے۔ناقدین نیتن یاہو جن کو کرپشن کے مقدمے کا بھی سامنا ہے، پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ عدلیہ کی آزادی کو مجروح کر رہے ہیں اور اقتدار کو اپنی اس اتحادی حکومت کا مرکز بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو اسرائیل کی تاریخ کی سب سے زیادہ قوم پرست اور مذہبی حکومت ہے۔دوسری جانب نیتن یاہو ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کو عدلیہ کے حکام میڈیا کے ذریعے نشانہ بنا رہے ہیں۔2023 میں نیتن یاہو حکومت نے عدلیہ کے نظام میں تبدیلی کی کوشش کی تھی جس کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج دیکھنے میں آیا اور بہت سے لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ اس نے سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں سے قبل ملک کو کمزور کر دیا تھا۔اسرائیل کے حکومتی نظام پر نظر رکھنے والی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے کابینہ کے ارکان کے ووٹ کے بعد اس کے خلاف سپریم کورٹ میں 15 ہزار شہریوں کی جانب سے ایک پٹیشن دائر کی گئی ہے اور اقدام کو ایسا ’غیرقانونی‘ قدم قرار دیا گیا ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔