تہران : ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کے حوالے سے بتایا ہے کہ جنوب مشرقی ایرانی صوبے سیستان اور بلوچستان سے تین ایسے مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جن کا تعلق مبینہ طور پر اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد سے ہے۔ گرفتار شدگان کی شناخت اور قومیت ظاہر نہیں کی گئی۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ان افراد کو خفیہ اور حساس معلومات تک رسائی کس طرح حاصل ہوئی۔ایسے ایرانی دعووں کی آزادانہ تصدیق بالعموم نہیں ہو پاتی کیونکہ ایسی گرفتاریوں اور ملزمان کے خلاف چلائے جانے والے مقدمات کی کارروائیوں کو خفیہ ہی رکھا جاتا ہے۔ایران اور اسرائیل برسوں سے ایک دوسرے پر اپنے خلاف جاسوسی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں اور دونوں ریاستوں کے مابین مخاصمانہ بیان بازی بھی معمول کی بات ہے۔اسرائیل ایران کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے اور بارہا اس بات کی دھمکی بھی دے چکا ہے کہ وہ تہران کو مبینہ جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے اس کے خلاف یکطرفہ فوجی کارروائی بھی کر سکتا ہے۔ ایران تاہم کسی بھی قسم کے جوہری ہتھیاروں کی تیاری یا ان کے حصول کی کوششوں کی تردید کرتا ہے۔ مگر ساتھ ہی تہران کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے خلاف کسی بھی جارحیت کا سخت ترین جواب دیا جائے گا۔اس سال جنوری میں اسرائیل نے کہا تھا کہ اس نے مبینہ ایرانی جاسوسوں کے ایک گروہ کا کامیابی سے پتہ چلا لیا تھا۔