دی ہیگ : بین الاقوامی عدالت انصاف فلسطینی عوام کی نسل کشی کے خلاف جنوبی افریقہ کی درخواست پر سماعت کرنے کی تیاری کر رہی ہے، ایک اسرائیلی قانون ساز نے اس پٹیشن کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ہدش طال پارٹی کے بائیں بازو کے سیاست دان اوفر کاسف اسرائیلی پارلیمنٹ میں ایک رکن ہیں نیاعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی حکومت کے خلاف مقدمے کی ‘حقیقی حب الوطنی’ کے عمل کے طور پر حمایت کریں گے۔کاسف نے ایک بیان میں کہاکہ میرا آئینی فرض اسرائیلی معاشرے اور اس کے تمام باشندوں کے لیے ہے، نہ کہ ایسی حکومت کیلئے جس کے ارکان اور اس کے اتحاد نسلی تطہیر اور یہاں تک کہ حقیقی نسل کشی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ‘جن لوگوں نے ملک کو نقصان پہنچایا وہ جنوبی افریقہ کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمہ کے ذمہ دار ہیں۔کاسف نے مزید کہا کہ وہ اسرائیل کو ایک ’اخلاقی معاشرہ‘ بنانے کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔انہوں نے ’’ انتقام کی جنگیں نہیں اور تباہی کا مطالبہ، غیر ضروری خونریزی نہیں، اور فضول جنگوں میں شہریوں اور فوجیوں کی قربانی نہیں’’ الفاظ جیسے تبصرے کیے۔ان کے تبصرے کے بعد کنیسٹ کے ستر سے زائد ارکان نے کیسف سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔
