اسرائیلی فوج نے غزہ کے چرچ میںدو عیسائی خواتین کو گولی مارکر ہلاک کردیا

,

   

غزہ: ایک اسرائیلی فوجی نے غزہ شہر میں ایک کیتھولک چرچ میں 2عیسائی خواتین کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جو ماں اور بیٹی بتائے جاتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق غزہ میں ہولی فیملی پیرش کے اندر دو عیسائی خواتین کو قتل کر دیا گیا ۔ یہ عیسائی خاندان متاثرین کو پناہ دے رہا تھا۔ناہیدہ اور اس کی بیٹی ثمر کو اس وقت گولی مار کر قتل کر دیا گیا جب وہ سسٹرز کانونٹ کی طرف چل رہے تھے۔ ایک کو اس وقت مار دیا گیا جب اس نے دوسرے کو محفوظ مقام پر لے جانے کی کوشش کی۔گولی مارنے سے پہلے انہیںکوئی انتباہ نہیں دیا گیا ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ سات اور لوگ گولی لگنے سے زخمی بھی ہوئے جب وہ دوسروں کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔یہ کرسمس کے سیزن کے دوران دنیا کی سب سے قدیم مسیحی برادری پر ٹارگٹڈ موت کی مہم ہے۔جنوبی غزہ میں رفح سے رپورٹ کرتے ہوئے الجزیرہ کے ہانی محمود نے کہا کہ چرچ جو غزہ میں عیسائیوں کو رہائش دے رہا تھا گزشتہ چند دنوں سے براہ راست اسرائیلی بمباری کا نشانہ بنا ہے۔
غزہ میں باقی 800 عیسائی معدومیت کے دہانے پر ہیں۔ انہوں نے اس کمیونٹی کے لیے زندگی کو بہت مشکل بنا دیا ہے۔