اسرائیلی فوج نے 6برس میں 9ہزار بچے گرفتار کئے: رپورٹ

   

یروشلم : اسرائیلی فوج نے 2015 ء سے مارچ 2022 ء کے آخر تک 9ہزار سے زائد فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا۔ یوم اطفال کے موقع پر فلسطینی اسیران کلب نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ تقریباً 160 بچے اس وقت عوفر، دیمون اور مجد جیلوں میں قید ہیں۔ قابض حکام نے 2000 ء میں انتفاضہ شروع ہونے کے بعد سے تقریباً 19ہزار بچوں کو گرفتار کیا۔بچوں کو گرفتار کرنے کی پالیسی قابض ریاست کی مستقل پالیسیوں میں سے ایک ہے۔ 2015 کے بعد سے اس کریک ڈاؤن میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیلی قانون میں ترمیم کرکے 14 سال سے لے کر 12 سال تک کے بچوں کے لیے بھی سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ اس طرح عدالت 12 سال کی عمر سے بچوں پر مقدمہ چلا سکتی ہے،تاہم اس سے کم عمر بچوں کو صہیونی فوج گولیوں سے نشانہ بنادیتی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے 6فلسطینی نوجوانوں کو مغربی کنارے کے الگ الگ علاقوں میں فوجی چوکیوں سے گرفتار کر لیا۔طولکرم میں قابض فوج نے عنب فوجی چوکی سے 22 سالہ عاصم حفضی ابو لبدہ کو گرفتار کیا۔ عنب چوکی سے قابض حکام نے طولکرم شہرسے 22 سالہ ڈرائیور محمد ابو زنط کو بھی گرفتار کیا۔ اسرائیلی فوجیوں نے نوجوان جاسر دویکات کو اس وقت گرفتار کیا ، جب وہ نابلس کے جنوب میں زعترہ چوکی سے گزر رہا تھا۔ اس کے علاوہ 3دیگر فلسطینیوں کو لیث خشانہ، اسلام الرزا اور سعد خلیفہ کی چوکیوں سے حراست میں لیا گیا۔