غزہ 27 جولائی (ایجنسیز)اسرائیلی فوج نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب بین الاقوامی پانیوں میں فلسطینیوں کے لیے امداد لے جانے والے جہاز ’’حنظلہ‘‘ پر دھاوا بول دیا، جو غزہ کی جانب رواں دواں تھا۔ یہ جہاز ’’فریڈم فلوٹیلا‘‘ نامی تنظیم کے زیر اہتمام تھا، جس پر 21 انسانی حقوق کے کارکن سوار تھے۔جہاز پر سوار کارکنوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر نشر ہونے والے براہ راست ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ وہ جہاز کے عرشے پر بیٹھے ہوئے تھے اور اطالوی مزاحمتی نغمہ ’’بیلا چاؤ‘‘ گا رہے تھے۔ اسی دوران اسرائیلی فوجی طاقت کے زور پر جہاز پر سوار ہوئے اور مکمل کنٹرول سنبھال لیا۔ کچھ ہی دیر بعد جہاز سے براہ راست نشریات کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔ فریڈم فلوٹیلا اتحاد کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی افواج نے بین الاقوامی پانیوں میں جہاز حنظلہ کو غیرقانونی طور پر روکا اور اس پر قبضہ کیا”۔ آن لائن بحری ٹریکنگ سسٹم کے مطابق حنظلہ اس وقت مصری ساحل سے تقریباً 50 کلومیٹر اور غزہ سے 100 کلومیٹر دور تھا۔اسرائیلی وزارت خارجہ نے تصدیق کی کہ جہاز اب اسرائیلی ساحلوں کی جانب رواں ہے اور اس پر سوار تمام افراد محفوظ ہیں۔ اسرائیلی حکام کے مطابق کارروائی سے قبل جہاز کی جانب سے ایک ہنگامی کال بھی کی گئی تھی جب اسرائیلی بحری جہاز اس کے قریب پہنچے۔اس سے قبل ہفتے کو فریڈم فلوٹیلا کے اتحاد نے اعلان کیا تھا کہ جہاز کے اوپر ڈرون پرواز کرتے دیکھے گئے ہیں، جو اسرائیلی فوج کی نگرانی کا اشارہ تھا۔جہاز ’’حنظلہ‘‘ نے 13 جولائی کو اطالوی بندرگاہ سیراکوزا سے سفر کا آغاز کیا تھا۔ 15 جولائی کو وہ کچھ فنی مسائل کے باعث گالیپولی بندرگاہ پر رکا اور 20 جولائی کو دوبارہ غزہ کی جانب روانہ ہوا۔یہ پہلا موقع نہیں کہ اسرائیلی فوج نے فریڈم فلوٹیلا کے کسی جہاز کو نشانہ بنایا ہو۔ رواں سال 9 جون کو بھی ’’میڈلین‘‘ نامی جہاز، جو غزہ کے لیے انسانی امداد لے جا رہا تھا، بین الاقوامی پانیوں میں روکا گیا اور اس پر سوار 12 غیرملکی کارکنوں کو گرفتار کر کے بعد میں ملک بدری کے وعدے پر رہا کیا گیا۔واضح رہے کہ غزہ اس وقت شدید انسانی بحران کا شکار ہے، جہاں اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے باعث قحط جیسی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔