اسرائیلی قید سے رہا فلسطینی اپنے خاندان کو زندہ دیکھ کر حیرت زدہ

,

   

غزہ، 14 اکتوبر (یو این آئی) اسرائیلی جیل میں 20 ماہ قید کے بعد گزشتہ روز رہا ہونے والے غزہ کے فوٹو جرنلسٹ شادی ابو سیدو نے قید کے دوران ہونے والے سنگین مظالم اور اذیت ناک حالات کی تفصیل بیان کردی۔ ابو سیدو کے مطابق اسرائیلی قید خانوں میں قیدیوں کو ناقابلِ بیان تشدد، بھوک اور نفسیاتی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ شادی ابو سیدو نے بتایا کہ جیل میں اسرائیلی فوجیوں نے انہیں بتایا کہ ‘ہم نے تمہارے بچوں کو مار دیاہے ، غزہ ختم ہو گیا ہے ۔غزہ پہنچنے پر شادی ابو سیدو کو خبر ملی کے ان کے بچے اور خاندان کے دیگر افراد خیریت سے ہیں، اپنے گھر پہنچ کر جب انہوں نے اپنے بچوں کو دیکھا تو سکتے میں آگئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم روز ایک بار نہیں، ہزار بار مرتے تھے ۔ ہمیں نیند اور کھانے کا ذائقہ تک بھلا دیا گیا، رات کے وقت ہم پر پانی پھینک کر تشدد کیا جاتا تھا اور ہر ممکن طریقے سے اذیت دی جاتی تھی۔ ابو سیدو نے کہا کہ میں دو سال بھوکا رہا، بھوکا ہی جیل میں گیا اور بھوکا ہی جیل سے رہا ہوا۔ رہائی کے بعد جب ابو سیدو واپس غزہ پہنچے تو تباہی دیکھ کر وہ سکتے میں آ گئے ۔ انہوں نے کہا کہ ‘میں غزہ میں داخل ہوا تو لگا جیسے یہ قیامت کا منظر ہو، یہ وہ غزہ نہیں رہا جسے میں جانتا تھا۔ شادی ابو سیدو کو مارچ 2024 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب اسرائیلی افواج نے غزہ شہر کے الشفا اسپتال پر حملہ کیا تھا اور متعدد مریضوں، طبی عملے کے ارکان اور شہریوں کو گرفتار کرلیا تھا۔ ابو سیدو نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ دیگر تمام فلسطینی قیدیوں کی فوری رہائی کے لیے اقدام کرے جو اب بھی اسرائیلی قید میں اذیتیں برداشت کر رہے ہیں۔

رہائی سے قبل بیوی بچوں کی ہلاکت …
خبر نے فلسطینی قیدی کے ہوش اڑادیئے
غزہ ۔ 14 اکٹوبر (ایجنسیز) گزشتہ روز اسرائیلی جیلوں سے سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے موقع پر اْس وقت کئی جذباتی اور دلوں کو چْھو لینے والے مناظر دیکھنے میں آئے جب یہ قیدی غزہ پٹی اور مغربی کنارے میں اپنے خاندانوں سے دوبارہ جا ملے۔ ان افراد کی رہائی اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت عمل میں آئی۔ان مناظر میں قیدیوں اور ان کے اہلِ خانہ کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو … قید و اذیت کے اْن طویل برسوں کی گواہی دے رہے تھے جو انھوں نے اسرائیلی جیلوں میں گزارے۔تاہم کئی فلسطینیوں کی کہانیاں دل توڑ دینے والی ثابت ہوئیں۔ ان ہی میں ایک منظر ایسا بھی تھا جس میں ایک فلسطینی باپ وہیل چیئر پر جیل سے رہا ہوا۔ مذکورہ فلسطینی اس وقت سکتے میں آ گیا جب اسے معلوم ہوا کہ اس کی بیوی اور تمام بچے اس کی رہائی سے محض چند ہفتے قبل اسرائیلی بمباری میں ہلاک ہو گئے۔ یہ باپ جو برسوں سے اپنی بیوی اور بچوں سے ملاقات کے خواب دیکھ رہا تھا، فرطِ غم سے زمین پر گر کر بلک بلک کر رونے لگا۔مقامی فلسطینی ذرائع کے مطابق اْس نے اپنی دو سالہ بچی کیلئے ایک تحفہ بھی خریدا تھا … جس کی سال گرہ 18 اکتوبر کو آنے والی تھی۔

غزہ کی تعمیر نو، عرب اور یوروپی ریاستیں فنڈنگ کیلئے تیار
نیویارک ۔ 14 اکٹوبر (ایجنسیز) غزہ کی تعمیرنو کیلئے 70 بلین ڈالر کی جو خطیر رقم درکار ہے، اس میں مالی معاونت کرنے کیلئے امریکہ کے ساتھ ساتھ عرب اور یورپی ریاستوں سمیت مختلف ممالک کی جانب سے ابتدائی اشارے ملے ہیں، اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے ایک اہلکار نے منگل کو بتایا۔یو این ڈی پی کے جیکو سیلیئرز نے تفصیلات بتائے بغیر جنیوا میں ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا، “ہمیں پہلے ہی بہت مثبت اشارے ملے ہیں۔ انہوں نے اندازہ لگایا کہ اسرائیل اور حماس کی دو سالہ جنگ میں کم از کم 55 ملین ٹن ملبہ پیدا ہوا تھا۔