غزہ : غزہ کی جنگ جس میں اسرائیل آسان ہدف سمجھے کر کودا تھا آج جنگ کے باعث اسے شدید پریشانیوں کا سامنا ہے۔ اس جنگ میں جہاں سے بڑے پیمانے پر ہونے والے اخراجات کے سبب حکومتی اور اپوزیشن پارٹیوں کے مابین شدید اختلافات سامنے آرہے ہیں تو دوسری طر ف فوجیوں کی ہلاکت کی صورت میں اسرائیلیوں کی جانب سے جنگ پر تنقید اور جنگ بندی پر دبائو بڑھ رہا ہے۔غزہ پٹی پر 100دن سے زائد جاری جنگ کے بعد اسرائیلی حکومت کو یرغمالی اسرائیلیوں کی بازیابی اور مالی سال کیبجٹ پر سخت تنقید کا سامنا ہے۔اسرائیلی اخبار’’ہارٹز‘‘کے مطابق وار کیبنٹ کے اجلاس میں لیکود پارٹی کے ارکان کا قیدیوں کے حوالے سے معاہدہ پر نیشنل یونیٹی پارٹی کے ارکان میں شدید اختلاف سامنے آیا۔
واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہواور وزیر دفاع یو آئو گیلینٹ کا تعلق بھی لیکود پارٹی سے ہے۔جن کا خیال ہے کہ حماس پر فوجی دبائو سے ہی قیدیوں کی رہائی ممکن ہے۔ تاہم نیشنل پارٹی کے وزراء بینی گینٹز اور گاڈی ٹائزن کوٹ کے مطابق حماس کے ساتھ معاہدے کے لئے نئے خیالات پر غور کرنے کا کہا گیا ہے۔