تل ابیب: اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ جمعرات کے روز سائرن کی آواز سننے پر اس نے میزائلوں کو فضا میں روکنے کی کوشش کی۔ یہ میزائل شکن اینٹی سیپٹر بحیرہ احمر کی طرف لانچ کیے گئے تھے۔ تاکہ بحیرہ احمر کی طرف سے کسی خطرے کو راستے میں ہی روکا جا سکے۔ تاہم بعد میں پتا چلا کہ اسرائیل کے جنوبی شہر ایلات کے گرد و نواح میں بجنے والے سائرن غلطی سے بجا دیے گئے تھے۔تین ماہ سے زیادہ طویل ہوچکی غزہ جنگ کے دوران اسرائیلی شہر ایلات کو یمنی حوثیوں کی طرف سے ڈرون طیاروں اور میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کئی بار کوشش کی جا چکی ہے۔ جیسا کہ حماس بھی اسرائیل کے مختلف علاقوں میں کئی بار راکٹ پھینک چکی ہے۔اسرائیلی شہر ایلات میں لوگوں کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے سائرن کے بجنے کی آوازیں سنیں تو اس کے ساتھ ہی ایک دھماکہ بھی ہوا اور مقامی ٹی وی نے دھماکہ کے وقت خلیج عقبہ کی طرف دھواں اٹھنے کی تصاویر بھی لیں۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی طرف سے میزائل حملے کو روکنے کیلئے اینٹی سیپٹر ‘لانچ’ کیے گئے۔ تاہم فوج کی طرف سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ میزائل مار گرائے جاسکے یا نہیں۔ بعدازاں ایک اور بیان میں اسرائیلی فوج نے وضاحت کی ہے کہ یہ واقعہ میزائل شکن دفاعی پروگرام کے سینسرز کی خرابی کی وجہ سے پیش آیا۔ کیونکہ میزائل شکن پروگرام کے اس سنسر کو اسی وقت سائرن بجانا ہوتے ہیں جب وہ کوئی میزائل حملہ ہوتے دیکھتے یا محسوس کرتے۔اسرائیل کے طبی عملے نے بتایا ہے کہ ان کے پاس کسی اسرائیلی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں پہنچی ہے۔