اسرائیلی وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ کا غزہ پر مکمل قبضہ کرنے کا مطالبہ

   

تل ابیب ۔ 29 اگست (ایجنسیز) اسرائیلی وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر حماس نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا تو وہ غزہ پٹی کے کچھ علاقوں کو فوری طور پر اپنے ساتھ شامل کر لے۔انتہا پسند دائیں بازو کے اس وزیر نے یروشلم میں ایک پریس کانفرنس کے دوران غزہ میں 2025ء کے آخر تک فتح حاصل کرنے کا ایک منصوبہ بھی پیش کیا۔سموٹریچ کی تجویز کے تحت حماس کو الٹی میٹم دیا جائے گا کہ وہ اپنے ہتھیار حوالے کرے اور اکتوبر 2023ء میں حملے کے دوران قید کیے گئے اسرائیلیوں کو رہا کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر حماس نے انکار کیا تو اسرائیل کو چار ہفتوں تک ہر ہفتے غزہ کے کچھ حصے کو اپنے ساتھ ملا لینا چاہیے۔
، جس سے غزہ پٹی کا بیشتر حصہ مکمل اسرائیلی کنٹرول میں آ جائے گا۔ اس دوران، فلسطینیوں کو غزہ کے جنوبی حصے میں منتقل ہونے کا کہا جائے گا اور پھر اسرائیل شمالی اور وسطی غزہ کا محاصرہ کر کے حماس کے باقی ماندہ جنگجوؤں کو ختم کر دے گا۔انہوں نے یہ سب کچھ “تین سے چار مہینوں میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔”سموٹریچ نے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو سے بھی مطالبہ کیا کہ اس منصوبہ کو مکمل اور فوری طور پر اپنایا جائے۔ بزلئیل سموٹریچ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب اسرائیلی فوج غزہ شہر کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے حملوں میں تیزی لا رہی ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے وہاں کے شہریوں کی صورتحال پر بڑھتی ہوئی تشویش کا اظہار کیا ہے۔