اسرائیلی ٹینک زمینی حملہ کیلئے جنوبی غزہ میں داخل!

,

   

خان یونس میں بمباری سے بڑے پیمانے پر تباہی اور اموات کی اطلاعات

غزہ: نہتے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی دہشتگردانہ کارروائیاں جاری ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ٹینک بڑی زمینی کارروائی کے لیے جنوبی غزہ میں داخل ہوگئے۔برطانوی میڈیا کے مطابق گزشتہ رات زمینی حملے کے لیے بڑی تعداد میں اسرائیلی فوجی اور ٹینک جنوبی غزہ میں داخل ہوئے۔اسرائیلی ریڈیو کا کہنا ہے کہ یہ زمینی کارروائی پہلے کی گئی تمام کارروائیوں سے بڑی ہے۔ اسرائیلی ٹینکوں نے جنوبی غزہ کے مختلف علاقوں میں گولہ باری کرکے متعدد رہائشی عمارتیں تباہ کردیں۔ گولہ باری سے متعدد فلسطینی زخمی ہوئے۔اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو نے گزشتہ روزجنوبی غزہ میں زمینی حملہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔دوسری جانب اسرائیل نے غزہ میں ایندھن پہنچانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔ ایندھن کی کمی اور بجلی کی عدم فراہمی کے باعث صحت کا نظام مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے اور اسپتالوں میں کام رک گیا ہے۔اسرائیلی فوجیوں اور ٹینکوں نے غزہ میں رات گئے ایک مختصر مگر بڑے پیمانے پر زمینی حملہ کیا۔یہ حملہ اس وقت کیا گیا ہے جب غزہ پر اسرائیلی بمباری کو لگ بھگ 3 ہفتے ہونے کے بعد زمینی کارروائی جلد شروع ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔اسرائیلی فوج کی جانب سے ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں بکتر بند گاڑیوں کو غزہ کے سرحدی حصے میں بڑھتے ہوئے دکھایا گیا جبکہ ایک بل ڈوزر راستہ صاف کر رہا ہے اور ٹینکوں کی جانب سے شیل فائر کیے جا رہے ہیں۔اسرائیلی فوج کے مطابق رات گئے شمالی غزہ میں ٹارگٹڈ کارروائی کی گئی جو جنگ کے اگلے مرحلے کی تیاریوں کا حصہ ہے، اس کارروائی کے بعد فوجی اس علاقے سے باہر نکل گئے۔اسرائیل کی جانب سے پہلے بھی گزشتہ ڈھائی ہفتوں کے دوران غزہ میں کئی بار محدود زمینی پیشرفت کی گئی ہے مگر یہ اب تک کا سب سے بڑا زمینی حملہ تھا۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یہ پہلی بار ہے جب ٹینکوں کو استعمال کیا گیا جس سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ کے اگلے مرحلے کی تیاری کی جا رہی ہے۔اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے 25 اکتوبر کی شب دھمکی دی تھی کہ غزہ پر شدید بمباری کے ساتھ ساتھ ہم زمینی حملے کی بھی تیاری کر رہے ہیں۔ان کا دعویٰ تھا کہ زمینی حملے کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہیں اور اسرائیلی جنگی کابینہ متفقہ طور پر اس کے آغاز کا فیصلہ کرے گی۔اب تک اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ساڑھے 6 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور یہ زمینی کارروائی اس وقت کی گئی جب اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ غزہ میں ایندھن ختم ہونے کے قریب ہے، جس سے امدادی سرگرمیاں رکنے کا خطرہ ہے۔ ادھر خان یونس میں اسرائیلی بمباری سے کافی بڑے پیمانے پر تباہی اور اموات کی اطلاعات ہیں، مگر اس حوالے سے تفصیلات حاصل نہیں ہوئیں۔خان یونس جنوبی غزہ کا شہر ہے اور اسرائیلی فوج کی جانب سے شمالی غزہ کے رہائشیوں کو کہا جارہا ہے کہ وہ اپنے تحفظ کے لیے وہاں منتقل ہو جائیں، مگر اس شہر کو بھی مسلسل بمباری کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ جاری
شہید فلسطینیوں کی تعداد 7 ہزار سے تجاوز
غزہ :غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے 20 ویں روز شہید فلسطینیوں کی تعداد 7 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی بمباری سے 481 فلسطینی شہید ہوئے۔مجموعی طور پر اب تک 7028 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں 2913 بچے اور 1709 خواتین شامل ہیں۔فلسطینی وزارت صحت نے بتایا کہ اسرائیلی بمباری سے زخمی ہونے والے شہریوں کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔بیان میں مزید بتایا گیا کہ اسرائیلی بمباری کے باعث 940 بچوں سمیت 1650 فلسطینی لاپتہ ہیں۔بیان کے مطابق امکان ہے کہ لاپتہ افراد تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔فلسطینی وزارت صحت کا کہنا تھا کہ اسرائیلی جارحیت سے اب تک 12 ہاسپٹلس اور 57 طبی مراکز مکمل طور پر ناقابل استعمال ہوچکے ہیں۔