واٹس ایپ جاسوسی کیلئے استعمال ہونے والے سافٹ ویر پر عوام کا کوئی ردعمل نہیں
حیدرآباد۔8نومبر(سیاست نیوز) مرکزی حکومت نے اسرائیلی کمپنی کی جانب سے تیار کئے جانے والے سافٹ وئیر
Pegasus
کو باضابطہ استعمال کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ حکومت ہندنے تاحال واٹس اپ کو اس سافٹ وئیر کے ذریعہ کی جانے والی ریکارڈنگ کو بند کرنے کے لئے کوئی ہدایات جاری نہیں کی ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ حکومت نے اسرائیلی کمپنی کی جانب سے تیار کئے گئے سافٹ وئیر کے ذریعہ واٹس اپ کالس کی ریکارڈنگ اور نگرانی کے سلسلہ میں انکشاف کے بعد ردعمل کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ
Pegasus
کے استعمال کے ذریعہ سیکیوریٹی کے نام پر تمام کالس کی نگرانی کو یقینی بنایاجائے ۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ملک کی مختلف ریاستوں اور شہرو ںمیں موجود سرکردہ شہریوں کے واٹس اپ کی نگرانی کے سلسلہ میں یہ کہا جا رہاہے کہ اس انکشاف کے باوجود کوئی عوامی ردعمل نہ ہونے کے سبب حکومت نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اس سافٹ وئیر کا استعمال باضابطہ شروع کردیا جائے اور اس اقدام کو ملک کے تحفظ کا نام دیاجائے تاکہ عوامی سیکیوریٹی اور ملک کو کسی بھی طرح کی دہشت گردانہ کاروائیوں سے محفوظ رکھنے کیلئے اس طرح کے اقدامات کو یقینی بنائے جانے کا تاثر پیدا کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے تمام شہریوں کی نگرانی کرسکتی ہے ۔ اسرائیلی کمپنی کی جانب سے
Pegasus
کے انکشاف کے بعد اس بات کو بھی واضح کردیا گیا تھا کہ کمپنی یہ سافٹ وئیر صرف سرکاری اداروں کو ہی فروخت کرتی ہے لیکن مرکزی حکومت کی جانب سے اب تک اس بات کو واضح نہیں کیا گیا کہ حکومت کے کس محکمہ نے اسرائیلی کمپنی سے یہ سافٹ وئیر خریدا ہے اور کس محکمہ کی جانب سے ان چنندہ شہریوں کے واٹس اپ کالس کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ اس انکشاف کے بعد اپوزیشن جماعتو ںکی جانب سے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ حکومت اپنے حریفوں کو نشانہ بناتے ہوئے ان کی شخصی آزادی میں مداخلت کررہی ہے لیکن اپوزیشن کے الزامات پر بھی عوامی ردعمل نہ ہونے کے سبب حکومت کے حوصلوں میں اضافہ ہونے لگا ہے۔