غزہ : اسرائیلی فورسز جمعرات کو جنوبی غزہ کے مرکزی ہاسپٹل میں داخل ہو گئیں اور حماس کے پاس قید بقیہ یرغمالوں کی تلاش کے سلسلے میں ایک محدود کارروائی کی۔ اسرائیل کی ڈیفینس فورس نے ایک بیان میں کہا کہ فوج کے پاس ایسی مستند انٹیلی جنس معلومات تھیں، جن سے ظاہر ہوا تھا کہ حماس نے یرغمالوں کو خان یونس کے النصر ہسپتال میں رکھا ہوا ہے اور یہ کہ وہاں یرغمالوں کی لاشیں موجود ہو سکتی ہیں۔ فوج نے کہا کہ ہمارا ان کے لیے پیغام واضح ہے، ہم بے گناہ شہریوں کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے۔ ہم اپنے یرغمال تلاش کرنا چاہتے ہیں اور انہیں واپس گھر لانا چاہتے ہیں۔ ہم حماس کے دہشت گردوں کا خواہ وہ کہیں بھی روپوش ہوں پیچھا کرنا چاہتے ہیں۔ ہاسپٹل میں باقی رہ جانے والے سرجنز میں سے ایک ڈاکٹر خالد السیر نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ چہارشنبہ کو جنوبی شہر خان یونس کے النصر ہاسپٹل پر حملہ میں ایک مریض ہلاک اور سات زخمی ہو ئے۔ صحت کے عہدے داروں کے مطابق اسرائیل کے فوجیوں، ٹینکوں اور گھات لگا کر حملہ کرنے والوں نے کم از کم ایک ہفتہ سے ہاسپٹل کے احاطہ کو گھیرا ہوا ہے جب کہ اس کے چاروں طرف فائرنگ ہو رہی ہے اور حالیہ دنوں میں احاطہ کے اندر متعدد لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔
