واشنگٹن : وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکہ غزہ میں حماس کے زیر حراست اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے ایک اور معاہدے کی سہولت فراہم کرنے کیلئے کام کر رہا ہے تاہم اس حوالے سے تا حال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے صحافیوں کو بتایا کہ ہمیں کسی پیش رفت کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مشرق وسطیٰ کیلئے امریکی خصوصی ایلچی بریٹ میک گرک کی خطے کے دورے کے بعد واشنگٹن کے بعد مذاکرات میں پیش رفت ہوگی۔ کربی نے کہا کہ مک گرک قیدیوں کے بارے میں بات چیت کرنے کے بعد واپس آئے ہیں۔اے ایف پی کے مطابق یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر پیرس میں مصر، اسرائیل اور قطر کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کریں گے تاکہ غزہ کے حوالے سے کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی جا سکے۔ذرائع نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن عن قریب ولیمز برنز کو یورپ بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ وہ غزہ میں قیدیوں کی رہائی کے بدلے دو ماہ کی جنگ بندی کے معاہدے پر بات چیت دو ماہ کے بدلے غزہ میں قیدیوں کی رہائی کیلئے بات چیت کریں۔اسی تناظر میں وائٹ ہاؤس نے کہا کہ بائیڈن نے جمعہ کو مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے بات کی۔ بائیڈن نے قطر کے امیر الشیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے بھی بات چیت کی۔ اس بات چیت میں غزہ میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی پر بات چیت کی گئی۔
