اسرائیل۔حماس مذاکرات میں خلل ڈالنے کوئی رشو ت نہیں دی گئی:قطر

   

دوحہ : قطر نے مصر اور ثالثوں کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کے لیے “مالی ادائیگیاں” کرنے کے الزامات کی مذمت اور تردید کی ہے ،جو حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔جمعرات کو قطر کے بین الاقوامی میڈیا آفس نے ایک بیان میں کہا، “قطر ان بیانات کی سختی سے مذمت کرتاہے جو کچھ صحافیوں اور میڈیا اداروں نے شائع کیے ہیں، جن میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ قطر نے حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری مذاکرات میں شامل مصر یا کسی بھی ثالث کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کے لیے مالی ادائیگیاں کی ہیں۔”بیان میں مزید کہا گیا کہ “یہ الزامات بے بنیاد ہیں اور صرف ان لوگوں کے ایجنڈے کی خدمت کرتے ہیں جو ثالثی کی کوششوں کو سبوتاڑ کرنا اور اقوام کے درمیان تعلقات کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔”بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ الزامات غلط معلومات کی مہم میں ایک نئی پیش رفت کی نمائندگی کرتے ہیں جو انسانی مصائب سے توجہ ہٹانے اور جنگ کی سیاست کو جاری رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔قطر نے زور دیا کہ وہ اس تباہ کن جنگ کو ختم کرنے کے لیے متعلقہ فریقوں کے درمیان ثالث کے طور پر اپنے انسانی اور سفارتی کردار کے لیے پرعزم ہے اور جنگ بندی کے قیام اور شہری جانوں کے تحفظ کے لیے مصر کے ساتھ قریبی تعاون کر رہا ہے۔قطر نے مصر کے اہم کردار کی تعریف کی اور علاقائی استحکام کے لیے کامیاب مشترکہ ثالثی کو یقینی بنانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر تعاون کو اجاگر کیا۔قطر کا ردعمل اس وقت سامنے آیا جب اسرائیلی میڈیا نے یہ الزامات رپورٹ کیے کہ وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے دفتر کے مشیروں نے قطر سے فنڈز وصول کیے تاکہ مصر کے ثالثی کردار کو نقصان پہنچانے اور اسرائیلی میڈیا میں قطر کی ثالثی کی کوششوں کی تعریف کرنے کے لیے معلومات پھیلائی جا سکیں۔