انسانی جانوں کے نقصان پر گٹیرس کا اظہار افسوس، مصالحتی کوششیں جاری رکھنے امریکی صدربائیڈن کا اشارہ
اقوام متحدہ:اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گٹیرس نے اسرائیل اور فلسطین تنازعہ کے دونوں فریقوں سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ جبکہ امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ فلسطینی، اسرائیلی اور خطے کے دیگر اتحادیوں کے ساتھ مل کر خطے میں پائیدار امن کی کوششیں جاری ر ہیںگی۔یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں، جب جمعہ کے روز بھی غزہ میں حماس کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ حملے جب کہ غزہ پر اسرائیلی توپوں سے گولہ باری اور فضائی کارروائیاں جاری رہیں۔قوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گٹیرس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان کئی دنوں سے جاری عسکری کارروائیوں کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان اور بڑے پیمانے پر املاک کو نقصان پہنچا ہے۔عالمی ادارے کے سربراہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انتونیو گٹیرس نے انسانوں کے جانی نقصان پر سخت افسوس کا اظہار کیا ہے، جس کا دردناک پہلو یہ ہے کہ اس میں متعدد بچے بھی ہلاک ہوئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اگر لڑائی کو نہ روکا گیا تو اس کے نتیجے میں سیکیورٹی کی صورت حال قابو سے باہر ہو جائے گی اور انسانی بحران گھمبیر صورت اختیار کر لے گا۔ اس کی وجہ سے شدت پسندی کے جذبات مزید بھڑک اٹھیں گے اور اس کے اثرات نہ صرف فلسطینیوں کے علاقے تک اور اسرائیل تک پھیلیں گے، بلکہ یہ تنازع دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔مصالحتی کوششوں کے حوالے سے گٹیرس نے کہا کہ اقوام متحدہ مصالحت کی کوششیں کر رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر متاثرین کی فوری مدد کی اشد ضرورت ہے اور انہیں ضروری امداد فراہم کرنے کا کام جلد شروع کیا جائے۔گٹریس نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے چار فریقوں کا گروپ جلد از جلد اجلاس بلائے، اور فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جاری بحران کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس ضمن میں انھوں نے فلسطین اور اسرائیل کے حوالے سے ماضی میں اقوام متحدہ کی جانب سے منظور کردہ قراردادوں، بین الاقوامی قانون اور باہمی سمجھوتوں کا بھی ذکر کیا۔ادھر امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ فلسطینیوں، اسرائیلی اور خطے کے دیگر پارٹنرز کے ساتھ مل کر پائیدار امن کی کوششیں جاری رکھے گی۔صدر نے یہ بات جمعے کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں کہی، جس میں انہوں نے مسلم دنیا کو عید کی مبارکباد بھی پیش کی ہے۔وائٹ ہاوس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی، جن میں غزہ میں رہنے والے فلسطینی بھی شامل ہیں اور اسرائیلی عوام، سبھی کو عزت، تحفظ اور سلامتی کے ساتھ رہنے کا حق حاصل ہے۔انھوں نے دنیا بھر میں مسلمانوں کے لیے بڑے تہوار عیدالفطر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی ہے کہ مسلم دنیا اپنا تہوار منا رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ اس سال بیت المقدس کی صورت حال ہر جگہ کے مسلمانوں پر گراں گزری ہے، جن میں امریکہ میں رہنے والی مسلمان کمیونٹیز بھی شامل ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی خاندان کو اپنے گھر اور اپنی عبادت گاہ میں رہتے ہوئے خوف یا اپنے تحفظ کا مسئلہ درپیش نہیں آنا چاہیے۔بیان کے مطابق ، ”ہم اس خطے کے بچوں کے بارے میں فکر مند ہیں، جو ایک ایسے تنازعے کا صدمہ جھیلنے پر مجبور ہیں، جس پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں”۔صدر بائیڈن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ خود اور خاتون اول جل بائیڈن اتوار کو وائٹ ہاوس میں عید کی مناسبت سے منعقد ہونے والی تقریب کے منتظر ہیں۔مصالحتی کوششوں کے لئے مصر کا وفد اسرائیل پہنچ گیا۔ میڈیا کے مطابق، مشرق وسطی میں مصالحتی کوششوں کو آگے بڑھانے اور جنگ بندی کے لیے مصر کا ایک وفد اسرائیل پہنچ چکا ہے۔ مصر کے علاوہ، قطر اور اقوام متحدہ نے بھی اس ضمن میں اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
