اسرائیل اور امارات ماڈلس کا صحرا میںپہلا فوٹو شوٹ

,

   

مے ٹیگرعرب سرزمین پر ماڈلنگ کرنے والی پہلی اسرائیلی خاتون

دبئی ۔اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے گذشتہ ماہ تعلقات معمول پر لائے جانے کے معاہدے کے بعد اسرائیل کی مے ٹیگر اپنے ملک کی پہلی ماڈل بن گئی ہیں جنہوں نے متحدہ عرب امارات میں فوٹوشوٹ کروایا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق مے ٹیگر نے متحدہ عرب امارات کی ماڈل انستاسیا کے ہمراہ صحرا میں فوٹوشوٹ کروایا ہے۔متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان 13 اگست کو تاریخی معاہدہ طے پایا تھا جس میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات مکمل طور پر معمول پر لانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔اس شوٹ میں دونوں ماڈلز دبئی کے صحرا میں اسرائیلی اور اماراتی پرچموں کو لہرا رہی ہیں۔فکس خواتین کے زیر جامہ مصنوعات بنانے والا اسرائیلی برانڈ ہے۔ متحدہ عرب امارات کی روایات کو مقدم جانتے ہوئے انہوں نے صرف اپنے پاجاموں کے لیے فوٹوشوٹ کروایا ہے۔ٹیگر نے اس موقع پر کہا کہ ہم یہاں کے قوانین کی عزت کرتے ہیں۔اسرائیلی شہریوں کے لیے ویزوں تک باآسانی رسائی اور دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست پروازوں کا ابھی تک آغاز تو نہیں ہوا ہے اس لیے فوٹوشوٹ کی ٹیم غیر اسرائیلی پاسپورٹ پر پرواز کے ذریعے براستہ یورپ متحدہ عرب امارات پہنچی ہے۔ پروڈیوسر نویا یوہاننوف کے بموجب جب ہم نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو معمول کی سطح پر لانے کے معاہدے کے بارے میں سنا تو ہم نے سوچا کہ دبئی میں شوٹ کرنا سب سے زیادہ دلچسپ چیز ہوگی۔یاد رہے کہ اسرائیلی وفد نے گذشتہ ہفتے ابوظہبی کا دورہ کیا تھا جس میں متحدہ عرب امارات اور اسرائیل نے بینکنگ اور مالیاتی شعبے میں تعاون کے لیے اتفاق کیا تھا۔