اسرائیل اور فلسطین کا تنازعہ جلد ازجلد ختم ہونا چاہئے: صدر آذربائیجان

   

’جھوٹی خبروں‘ کے عنوان سے منعقدہ گلوبل میڈیا فورم کی افتتاحی تقریب سے صدر الہام علی کا خطاب

شوشا : اسرائیل فلسطین تنازعہ کا ذکر کرتے ہوئے علی ایف نے کہا کہ یہ تنازعہ جلد از جلد ختم ہونا چاہیے۔ ہم نے کئی سالوں سے فلسطین کی معاشی اور سیاسی طور پر حمایت کی ہے۔ ہم نے ہمیشہ فلسطین کی آزادی کی حمایت کی ہے۔ آذربائیجان کے صدر الہام علی ایف نے کہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین تنازعہ جلد از جلد ختم ہونا چاہیے۔ علی ایف نے شوشا میں منعقدہ جھوٹی خبروں کی نمائش: غلط معلومات کا مقابلہ‘‘ کے عنوان سے گلوبل میڈیا فورم کے افتتاح سے خطاب کیا۔ اسرائیل فلسطین تنازعہ کا ذکر کرتے ہوئے علی ایف نے کہا کہ یہ تنازعہ جلد از جلد ختم ہونا چاہیے۔ ہم نے کئی سالوں سے فلسطین کی معاشی اور سیاسی طور پر حمایت کی ہے۔ ہم نے ہمیشہ فلسطین کی آزادی کی حمایت کی ہے۔ ہم دو ریاستی حل کے حق میں ہیں۔ ایک فلسطینی ریاست قائم ہونی چاہیے اور یروشلم یعنی القدس اس ریاست کا دارالحکومت ہونا چاہیے اگر ہمیں مدعو کیا جائے تو ہم ثالث کے طور پر تعاون کر سکتے ہیں لیکن عرب لیگ کو زیادہ موثر ہونا چاہیے۔ روس کے ساتھ اپنے ملک کے تعلقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ روس کے ساتھ ہمارے تعلقات میں کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جسے حل نہیں کیا جا سکتا۔ ہم باہمی احترام، افہام و تفہیم اور مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعاون کرتے ہیں۔ ہم اکثر اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کرتے ہیں۔ ہم سال کے آخر تک دوبارہ ملیں گے۔ کثیر جہتی تعلقات اس وقت سب سے آگے ہیں ہم نے دوطرفہ تعلقات میں تقریباً تمام مسائل کو حل کر لیا ہے۔ علی ایف نے اپنی تقریر میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ جارجیا اور آرمینیا کی خارجہ پالیسیوں میں تیزی سے تبدیلیاں آئی ہیں ہر کوئی کہتا ہے کہ ہم پرامن جنوبی قفقاز چاہتے ہیں۔ لیکن حقیقی جغرافیائی سیاست میں ایسا نہیں ہے۔ ایسے وقت میں جب آرمینیا اور جارجیا میں نئی خارجہ پالیسیاں تشکیل دی جا رہی ہیں، ہمیں اس کا گہرائی سے تجزیہ کرنا چاہیے۔ ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور نہ ہی رہے گی۔ ہم اب جنوبی قفقاز میں ایک ساتھ ہیں یہ پرامن رہنے کا ایک موقع ہے لیکن ہمیں یہ دیکھنے کے لیے انتظار کرنا چاہیے کہ جارجیا اور آرمینیا میں خارجہ پالیسی میں کیا تبدیلی آئے گی۔ ان الزامات کے بارے میں کہ آذربائیجان نے روسی قدرتی گیس فروخت کی ہے علی ایف نے کہا کہ ہم روسی گیس فروخت نہیں کرتے۔ یہ سراسر جھوٹ ہے۔ ہاں، ہم نے 1 بلین کیوبک میٹر کے لیے قدرتی گیس کے معاہدہ پر دستخط کیے تھے۔ اس وقت روسی گیس کی قیمت زیادہ مناسب تھی۔ یہ خالصتاً تجارتی معاہدہ تھا۔ ہم گیس برآمد کرتے ہیں۔ آذربائیجان سالانہ 25 بلین کیوبک میٹر گیس کا برآمد کنندہ ہے یہ مکمل طور پر جعلی خبر ہے۔