’اسرائیل حماس کے خاتمہ کا خواب دیکھنا چھوڑ دے‘ مسئلہ فلسطین کو دنیا نے بھلا دیا تھا، طوفان الاقصیٰ آپریشن ناگزیر تھا: حسن نصراللہ

,

   

بیروت: لبنانی تنظیم حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے کہا ہے کہ حزب اللہ طوفان الاقصی آپریشن کے دوسرے روز سے اسرائیل کیخلاف جنگ میں شریک ہے، ہماری طاقت اسلحہ نہیں ایمان ہے، اسرائیل حماس کے خاتمے کا خواب دیکھنا چھوڑ دے۔ لبنان کے دارلحکومت بیروت میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد پہلی بار عوامی اجتماع سے خطاب میں حسن نصر اللہ نے کہا کہ لبنانی اور فلسطینی شہیدوں کے اہل خانہ کو رتبہ شہادت حاصل کرنے پرمبارکباد اور تعزیت پیش کرتے ہیں، شہدا کا رتبہ منفرد رتبہ ہوتا ہے، صرف مسلمان ہی اس رتبے کو سمجھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طوفان الا قصی جنگ اخلاقی اور دینی اعتبار سے ایک جائز جنگ ہے، دنیا نے اسرائیلی مظالم پر مجرمانہ طور پر آنکھیں بند کیں ، ہمیں پتہ چل گیا کون ہمارا دوست اور کون دشمن ہے، مدد پر ایران اور عراق کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ حسن نصر اللہ نے کہا کہ طوفان الاقصی آپریشن نے اسرائیل کو ہر لحاظ سے ہلا کر رکھ دیا، اسرائیلی فوج اپنے ہی شہریوں کے قتل میں ملوث ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ سات اکتوبر کے واقعات کے محرکات پر روشنی ڈالنا، حزب اللہ کا موقف واضح کرنا ضروری ہے، طوفان الاقصی آپریشن فلسطینیوں کی جنگ ہے اور اس کا علاقائی ممالک سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی ماں اور بہنوں کی آواز پر ہر قربانی کے لئے تیار ہیں شہادت ہماری طاقت ہے ، جس پر ہمیں فخر ہے ہم نہ جھکیں گے اور نہ کسی کے دبا میں آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کو دنیا نے بھلا دیا تھا، جس کے بعد صہیونی تکبر اور بے وقوفی بڑھتی جا رہی تھی، لہٰذا طوفان الاقصیٰ آپریشن ناگزیر تھا۔ فلسطینی تحریک مزاحمت حماس کے اسرائیل پر طوفان الاقصیٰ آپریشن شروع کیے جانے کے بعد اپنے پہلے عوامی خطاب میں حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ امریکہ اور کچھ دیگر یورپی ملکوں نے اسرائیل کی اندھی حمایت کی ہے۔ صیہونی ریاست کے حملوں سے کوئی محفوظ نہیں ہے اور اس پر دنیا صرف تماشا دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل سوچ بھی کیسے سکتا ہے کہ وہ غزہ میں داخل ہوکر فلسطینی مجاہدین سے لڑ سکے گا؟۔ کیا دنیا نے افغانستان میں امریکہ اور روس کا حشر نہیں دیکھا۔ حسن نصر اللہ کا اپنے وڈیو خطاب میں کہنا تھا کہ اس بات کے کھلے ثبوت موجود ہیں کہ اسرائیل نے خود اپنے ہی شہریوں کو بے دردی سے قتل کرکے فلسطینی علاقوں خصوصاً غزہ پر حملوں کے جھوٹے جواز پیش کیے۔ قابض صہیونی فوج اسکولوں، اسپتالوں اور آبادیوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ اپنے خطاب میں حسن نصر اللہ نے کہا کہ غزہ کے مجاہدین نے اسرائیلی فوج کے زمینی حملوں کو بہادری سے ناکام بنایا ہے۔ صیہونی ریاست کے وحشیانہ مظالم فلسطینیوں کی مزاحمت کو دبانے کی قوت نہیں رکھتے۔انہوں نے کہا کہ دشمنوں نے اپنے طور پر بڑے اہداف مقرر کرکے غلطی کرلی ہے، جس طرح اسرائیلی فوج ظالمانہ کارروائیوں میں مصروف ہے، یہ جنگی اصولوں کے بالکل برعکس ہے۔ حزب اللہ سربراہ نے کہا کہ دہائیوں سے مظالم سہنے کے بعد فلسطینیوں کے پاس جنگ کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ اس معاملہ میں حقیقی فیصلہ ساز مزاحمتی تنظیموں کے رہنما ہی ہیں۔