اسرائیل عالمی عدالت میں اپنا دفاع کرنے میں مصروف

,

   

Ferty9 Clinic

حماس۔ اسرائیل جنگ سے پورا خطہ غیر مستحکم، بحیرہ احمر کے حملے تشویشناک

دی ہیگ : یمن میں حوثی باغیوں پر امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ حملوں کے بعد روس نے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اْدھر اسرائیل ICJ میں نسل کشی کے الزامات کے خلاف مقدمہ کی سماعت میں اپنا دفاع کر رہا ہے۔ ایران نے جمعہ کے روز یمن میں حوثی باغیوں پر امریکہ اور برطانیہ کے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام خطے میں مشرق وسطی کے لیے ایک نیا خطرہ ہو سکتے ہیں۔ امریکی اور برطانوی فوجوں نے جمعرات کو یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے زیر استعمال درجنوں مقامات پر حملے کیے۔ امریکی حکام نے بتایا کہ ٹام ہاک میزائل اور لڑاکا طیاروں کے استعمال سے کیے گئے یہ حملے بحیرہ احمر میں گزشتہ چند روز میں بین الاقوامی بحری جہازوں پر حوثی باغیوں کی طرف سے کیے گئے متعدد حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔ حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ ان کے حملوں کا مقصد غزہ پٹی میں اسرائیل کی جنگ کو روکنا ہے۔ تاہم ان کے اہداف کا اسرائیل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ حملے ایشیا اور مشرق وسطیٰ کو یورپ سے جوڑنے والے ایک اہم تجارتی بحری راستے کے لیے خطرہ ہیں۔ جمعرات کو امریکی اور برطانوی فوجوں کی طرف سے ہونے والے متعدد حملوں کے بارے میں حوثی باغیوں نے جمعہ کو کہا کہ ان میں پانچ افراد ہلاک اور چھ دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ ایک سینیئیر انتظامی اہلکار نے کہا کہ اگر امریکہ یہ توقع کر رہا ہے کہ ان حملوں سے حوثیوں کی صلاحیتوں کم ہو جائیں گی تو ایسا نہیں ہوگا۔ اس اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے ابھی تک کچھ بھی نہیں دیکھا ہے۔‘‘ حوثی انتظامیہ نے کہا ہے کہ امریکہ نے اپنا بحری طیارہ بردار جہاز USS Dwight D. Eisenhower اور فضائیہ کے لڑاکا طیارہ اور ٹوماہاک میزائل بحری جہازوں اور ایک آبدوز سے فائر کیے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنانی نے جمعہ کو کہا ہم آج صبح امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے یمن کے کئی شہروں پر کیے گئے فوجی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ادھر خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے حوثیوں کی اعلیٰ سیاسی کونسل کے ایک رکن محمد علی الحوثی نے بھی ان حملوں کو وحشیانہ قرار دیا ہے۔ حماس نے جمعہ کو یمن کے حوثیوں پر امریکی اور برطانوی حملوں کے سنگین اثرات سے خبردار کیا۔ فلسطینی عسکری گروہ حماس کے حامی حوثی باغی غزہ جنگ کے آغاز سے اب تک متعدد مرتبہ بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ غزہ کی منتظم حماس نے ٹیلی گرام پر کہا کہ ہم یمن پر امریکی برطانوی حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ہم انہیں علاقائی سلامتی پر پڑنے والے اثرات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ دریں اثناء غزہ کا سب سے بڑا ہسپتال، جو حماس کے خلاف اسرائیل کی جنگ سے سخت متاثر ہوا ہے، نے جزوی طور پر خدمات بحال کر دی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے دو ہفتوں میں پہلی بار اس ہسپتال میں پہنچ کر یہ اعلان کیا۔ اطلاعات کے مطابق عالمی ادارہ صحت اور اس کے کچھ شراکت دار جمعرات کو غزہ کی پٹی میں واقع الشفاء ہسپتال پہنچے تھے۔ وہاں اس وقت ایندھن اور طبی سامان کی اشد ضرورت ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم گھبریسس نے ایکس پر ایک پبغام میں کہا کہ ٹیم نے اطلاع دی ہے کہ الشفاء، جو پہلے غزہ کا سب سے بڑا ہسپتال تھا، نے (جزوی طور پر) خدمات بحال کر دی ہیں۔ ٹیڈروس نے کہا ہے کہ یہ ہسپتال، جسے ڈبلیو ایچ او نے نومبر میں اسرائیلی فوجیوں کے چھاپوں اور قبضہ کے بعد اور بڑے پیمانے پر وہاں کے طبی کام بند ہو جانے کے بعد ڈیتھ زون قرار دیا تھا، اب وہاں 60 اراکین پر مشتمل طبی عملہ پہنچا ہے۔ مزید برآں یہ بھی کہا،”اس میں 40 بستروں کے ساتھ ایک سرجیکل اور میڈیکل وارڈ، ایک ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ، چار آپریٹنگ تھیٹر، بنیادی ایمرجنسی اور امراض نسواں کی خدمات بھی شامل ہیں۔ ٹیڈروس نے کہا کہ یہاں ایک محدود ہیموڈائلیسس یونٹ، محدود لیبارٹری خدمات اور بنیادی ریڈیولوجی خدمات موجود ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے زیرقیادت ایک امدادی قافلے نے جمعرات کو ہسپتال کے لیے نو ہزار تین سو لیٹر یا (2,500 گیلن) ایندھن اور طبی سامان پہنچایا تھا تاکہ طبی مدد کے منتظر ایک ہزار بیماروں اور گردوں کے ڈائیلاسز کے ایک سو مریضوں کی ضروریات پوری کی جاسکیں۔