ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ترک ٹی وی چینل NTV سے بات چیت
انقرہ : 25جنوری ( ایجنسیز ) وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ اگر حالات اجازت دیں توترکیہ غزہ کو فوج بھیجنے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انقرہ براہِ راست کردار ادا کرنے کا عزم رکھتا ہے حالانکہ اسرائیل مخالفت کر رہا ہے، اور ساتھ ہی وہ جنگ کے بعد حکمرانی، انسانی امداد اور وسیع علاقائی سفارت کاری کے منصوبے بھی بیان کیے۔جمعہ کی شام ترک خانگی ٹی وی چینل NTV سے بات کرتے ہوئے فیدان نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں ترکیہ کی شمولیت سے متعلق ‘ہر چیز’ کی مخالفت کر رہا ہے، مگر انہوں نے اصرار کیا کہ انقرہ کی کوششیں جاری رہیں گی۔’اگر حالات موزوں بنے تو ہمارے پاس فوجی تعاون فراہم کرنے کی خواہش موجود ہے’۔فیدان نے غزہ کو ترکیہ کی سب سے فوری ترجیح قرار دیا اور کہا کہ علاقے میں حکمرانی اور انتظام کی نگرانی کے لیے ایک نئے ‘بورڈ آف پیس’ ڈھانچے کی تیاری جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ مختلف کمیٹیاں غزہ کی قومی خواہش کی نمائندگی اور روزمرہ انتظامات سنبھالنے کی ذمہ دار ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ انسانی امدادی کام بغیر رکاوٹ جاری ہیں اور رفح بارڈر کراسنگ اگلے ہفتے کے آغاز پر دوبارہ کھل سکتی ہے۔بے گھر فلسطینی خیموں میں سخت سردی کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے ترکیہ کنٹینر ہاؤسنگ پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ترک ریڈ کریسنٹ امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔وزیر فیدان نے یہ سوال کہ کیا حماس ہتھیار ڈال دے گی؟ کے جواب میں کہا کہ یہ معاملہ کسی بھی وسیع تر روڈ میپ کا حصہ ہونا چاہیے اور زور دیا کہ انقرہ کی اولین ترجیح یہ یقینی بنانا ہے کہ غزہ کی آبادی اپنی زمین پر برقرار رہے۔فیدان نے کہا کہ ایسے اشارے ہیں کہ اسرائیل ابھی بھی ایران پر حملہ کرنے کا موقع تلاش کر رہا ہے، انہوں نیخبردار کیا کہ ایسا اقدام خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘میں امید کرتا ہوں کہ وہ مختلف راستہ اختیار کریں گے، مگر حقیقت یہ ہے کہ خصوصاً اسرائیل ایران پر ضرب لگانے کا موقع تلاش کر رہا ہے۔