تل ابیب: اسرائیل کی سپریم کورٹ نے عدلیہ کے اختیارات سے متعلق حکومت کی جانب سے منظور کردہ متنازع قانون کو کالعدم قرار دے دیا۔ڈان نیوز کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت نے عدلیہ کے چند اختیارات محدود کرنے کا قانون منظور کیا تھا۔اسرائیلی سپریم کورٹ کے 15 میں سے 8 ججوں نے متنازع قانون کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے اسے کالعدم قرار دے دیا۔حکومت کی جانب سے متعارف متنازع قانون کے خلاف اسرائیل میں گزشتہ کئی ماہ تک احتجاج کیا گیا۔عدالتی فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے اسرائیلی حکومت نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ عوامی مرضی و منشا کی مخالفت کرتا ہے ۔واضح رہے کہ گزشتہ سال مارچ میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے متنازع عدالتی اصلاحات روکنے کے عزم کا اظہار کیا تھا جب کہ متنازع اصلاحات کے خلاف شروع ہونے والی ہڑتال اور بڑے پیمانے پر مظاہرے جاری ہیں۔نیتن یاہو ملک گیر واک آؤٹ کے باعث پڑھنے والے دباؤ کے سامنے جھک گئے جب کہ اس دوران ہسپتال، پروازیں اور کئی دیگر خدمات کی فراہمی کو متاثر کیا تھا۔اصلاحاتی پیکج کے خلاف تقریباً 3 ماہ سے جاری مظاہروں کی قیادت کرنے والوں نے اپنی ریلیاں جاری رکھنے کا عزم کیا، مظاہرین کی امبریلا موومنٹ نے کہا کہ نیتن یاہو کا اقدام اسرائیلی عوام کے احتجاج کو کمزور کرنے اور پھر آمریت نافذ کرنے کی ایک اور کوشش ہے ، ہم اس وقت تک احتجاج نہیں روکیں گے جب تک عدالتی بغاوت کو مکمل طور پر نہیں روکا جاتا۔