’ فائزر ‘ کے تیار کئے گئے ٹیکہ کی تحقیقات کے لیے کمیٹی کی تشکیل
حیدرآباد۔ اسرائیل نے فائزر کی جانب سے تیار کئے گئے ٹیکہ کے سبب قلب پر ورم و سوزش کے آثار نمودار ہونے پر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے اور اسرائیلی محکمہ صحت کی جانب سے عام شہریوں میں پائے جانے والی بیماری مائیو کارڈائیٹس کی وجوہات کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ اسرائیل میں ڈسمبر 2020 سے مئی 2021 کے درمیان 275 افراد بالخصوص نوجوانوں کو قلبی سوزش (مائیوکارڈائیٹس ) کی شکایات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اسرائیلی ماہرین صحت اسے کورونا وائرس کے ٹیکہ سے مربوط کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں کہ کہیں ٹیکہ اندازی کے سبب تو انہیں یہ مرض لاحق نہیں ہوا ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیل میں فائزر کی جانب سے تیار کیا گیا ٹیکہ شہریوں کو دیا گیا ہے اور اسرائیل میں 50 لاکھ افراد کو ٹیکہ اندازی کا عمل مکمل کیا جاچکا ہے جن میں 275 افراد میں قلبی سوزش کی علامات پائی گئی ہیں۔فائزر کے ذمہ داروں نے کہا کہ انہیں ٹیکہ حاصل کرنے والوں میں یہ علامات بڑی تعداد میں یا قابل توجہ تعداد میں نظر نہیں آئی ہیں جبکہ عام شہریوں میں قلبی سوزش کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں اور عام شہریو ںکو اس مرض کا سامنا ہوتا ہے جو کہ معمول کی بات ہے ۔ اسی لئے اس مرض کو فائزر کے ٹیکہ سے جوڑ کردیکھنا مناسب نہیں ہے لیکن اس کے باوجود بھی اسرائیلی محکمہ صحت کی جانب سے اس کا جائزہ لینے اور تحقیق کے اقدامات کئے جار ہے ہیں۔