چار ماہ سے جاری لڑائی سے حالات بدتر، خطرے میں کام کرنا بھوک سے کہیں بہتر، ہندوستانیوں کا موقف
تل ابیب: حماس کے ساتھ جنگ کے دوران اسرائیل میں ملازمتوں کیلئے لمبی قطاروں میں کھڑے ہندوستانی کہتے ہیں کہ ان کی حفاظت کو لاحق خطرات گھر میں بھوک سے بہتر ہیں۔بھرتی کرنے والوں کا مقصد اسرائیل میں مزدوروں کی کمی کو پورا کرنا ہے جو غزہ میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے خلاف تقریباً چار ماہ کی لڑائی کی وجہ سے بڑھ گئی ہے۔جبکہ ہندوستان دنیا کی پانچویں بڑی معیشت اور تیز رفتار ترین ترقی کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے لیکن اسے لاکھوں لوگوں کیلئے کافی کل وقتی اور اچھی تنخواہ والی ملازمتیں پیدا کرنے کیلئے جدوجہد کا سامنا ہے۔لائن میں موجود سینکڑوں ہندوستانی جو تقریباً سبھی مرد ہیں، ان کیلئے اسرائیل میں ہنر مند تعمیراتی کام کا موقع اور 18 گنا زیادہ اجرت ان کے خوف سے کہیں بڑھ کر ہے۔ریاست اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں ایک ٹریننگ سینٹر اور بھرتی کی جگہ پر ہجوم کے درمیان موٹر بائیک مکینک جبر سنگھ نے کہا، “اگر ہماری قسمت میں مرنا لکھا ہے تو ہم وہیں مریں گے ۔ کم از کم ہمارے بچوں کو کچھ تو ملے گا۔ یہاں بھوکے رہنے سے یہ بہتر ہے۔”ہندوستان کی شہری بے روزگاری کی شرح — کام کے خواہشمند لوگوں کی فیصد تعداد جو نوکری نہیں پا سکتے ۔ جولائی 2022جون 2023 میں 5.1 فیصد تک گر گئی جو ایک سال پہلے کے اسی عرصے کے دوران 6.6 فیصد تھا۔اسی عرصے کے دوران ہندوستان کی تقریباً 22 فیصد افرادی قوت کو “عام مزدور” کے طور پر درجہ بند کیا گیا جس کی اوسط ماہانہ اجرت حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 7,899 روپے (95 ڈالر) ہے۔ہندوستانی ٹائل ڈیزائنر دیپک کمار نے کہا کہ یہ “چار دن کام، دو دن کھانے” کا معاملہ تھا۔کمار نے کہا کہ وہ خبروں سے باخبر رہتے اور خطرات کو جانتے ہیں لیکن اپنے بچوں کی خاطر کام تلاش کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں ہنسی خوشی گولی کھا لوں گا لیکن 150,000 روپے (1,800 ڈالر) تو کما سکوں گا”۔اسرائیل میں کام کرنا ایک ایسا راستہ ہے جس سے ہندوستانیوں کی بڑی تعداد گذر چکی ہے۔تل ابیب میں ہندوستانی سفارتخانہ کہتا ہے کہ اسرائیل میں تقریباً 18,000 ہندوستانی شہری ہیں جو “بنیادی طور پر نگہداشت کرنے والے ہیں جنہیں بزرگوں کی تلاش ہوتی ہے اور ساتھ ہی ہیروں کے تاجروں اور آئی ٹی کے پیشہ ور افراد کے طور پر ملازم ہیں۔ کچھ طلباء ہیں لیکن بھرتی کرنے والوں نے نوکری کے متلاشیوں کیلئے ایک نئی مہم شروع کی ہے۔لکھنؤ کے انڈسٹریل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ راج کمار یادو نے کہا کہ وہ اسرائیل سے بھرتی کرنے والوں کو 10,000 ہنر مند تعمیراتی کارکنوں کی تلاش میں سہولت فراہم کر رہے ہیں جو ماہانہ 1,685 تک کما سکتے ہیں۔انہوں نے کہا، “وہ انہیں ویزا دیں گے اور لوگوں کو چارٹرڈ ہوائی جہاز میں اپنے ساتھ لے جائیں گے”، اور مزید کہا، “10,000 خاندانوں کی اچھی کفالت ہو گا اور وہ ترقی کریں گے”۔انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کو دونوں ممالک کے حکام کی حمایت حاصل ہے۔
ہندوستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے گذشتہ ہفتہ میڈیا کو بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے روزگار کے معاہدات موجود تھے۔جیسوال نے کہا کہ ہمارے پاس پہلے سے ہی لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہے خاص طور پر اسرائیل میں نگہداشت کے شعبے میں اور مزید کہا کہ معاہدے سے ’’منظم نقلِ مکانی‘‘ کو یقینی بنانے میں مدد ملی۔جس وقت لوگ لکھنؤ میں قطار میں کھڑے تھے، تقریباً 4,500 کلومیٹر کے فاصلے پر اسرائیل نے غزہ کے شہر خان یونس میں اپنا حملہ تیز کر دیا۔ فلسطینی تحریک حماس نے کہا کہ شدید بمباری اور شہری لڑائی میں درجنوں افراد جاں بحق ہو گئے۔
