اسرائیل میں مقیم تلنگانہ اور آندھراپردیش کے 10 ہزار نوجوان پریشان

   

واپسی کی صورت میں کورونا کا خوف ، حملوں سے بچنے مکانات میں بنکرس کی تعمیر
حیدرآباد: اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری تنازعہ اور اسرائیلی حملوں کے بعد اسرائیل میں مقیم تلنگانہ اور آندھراپردیش کے افراد اپنی واپسی کے بارے میں فکرمند ہیں۔ ایک طرف انہیں جنگی صورتحال کا سامنا ہے تو دوسری طرف تلنگانہ اور آندھراپردیش میں کورونا کی صورتحال سنگین ہے۔ اگر وہ فضائی حملوں کے خوف سے واپس ہوتے ہیں تو یہاں کورونا کا خطرہ برقرار رہے گا ۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ اور آندھراپردیش کے تقریباً 10,000 افراد اسرائیل میں مقیم ہیں جو مختلف کمپنیوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان میں سے ایک ہزار کا تعلق متحدہ اضلاع نظام آباد ، عادل آباد اور کریم نگر سے ہے ۔ اسرائیل میں یہ تلگو عوام ورک ویزا کے ساتھ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کے افراد خاندان کو لڑائی کی صورت میں اپنے بچوں کے تحفظ کی فکر لاحق ہوچکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 10,000 تلگو افراد بھی واپسی کے بارے میں سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ وہ اپنے رشتہ داروں سے ویڈیو کالس اور سوشیل میڈیا کے ذریعہ ربط میں ہیں۔ گزشتہ دو دنوں سے اسرائیل اور فلسطین میں تنازعہ میں شدت اور ایک دوسرے پر میزائیل حملوں کے بعد اسرائیل میں موجود تلگو عوام خوف و دہشت میں مبتلا ہیں۔ وہ اپنے بچاؤ کیلئے کسی خلیجی ملک میں پناہ لینے کا منصوبہ رکھتے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ شمالی تلنگانہ کے کئی بیروزگار نوجوانوں نے اسرائیل میں کام کرنے کو ترجیح دی کیونکہ وہاں کی تنخواہیں خلیجی ممالک سے زیادہ ہیں۔ گزشتہ دس برسوں سے یہ نوجوان اسرائیل میں برسر خدمت ہیں۔ اسی دوران اسرائیل میں موجود تلنگانہ اسرائیل اسوسی ایشن کے ورکنگ پریسیڈنٹ بی مہیشور گوڑ نے بتایا کہ تمام تلگو افراد محفوظ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر گھر میں تحفظ کیلئے بنکرس تعمیر کئے گئے ہیں اور کسی بھی خطرہ کے سائرن کے ساتھ ہی ہر شخص بنکر میں پناہ لیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ معمول کے مطابق ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔ صورتحال کے مزید بگڑنے کے اندیشہ کے تحت کئی تلگو نوجوانوں نے واپسی کا ارادہ کرلیا ہے۔