تل ابیب: اسرائیل کے سیاسی منظر نامے میں پیشرفت کی رفتار تیز ہو رہی ہے۔ اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں اور متعدد وزراء اور پارٹی رہنماؤں کے درمیان الزامات کا تبادلہ سخت ہو رہا ہے اور پردے کے پیچھے ہونے والے اختلافات عوام کے سامنے آنے لگے ہیں۔ان پیشرفتوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو کو اپنی حکومت بچانے کیلئے فعال کارروائی کرنے کیلئے حرکت میں آنے پر مجبور کیا۔ نتن یاہوکو ایک پریشانی قبل از وقت الیکشن کی ہے جس میں ان کی ناکامی نوشتہ دیوار دکھائی دیتی ہے۔ 7اکتوبر کے واقعہ کے بعد اسرائیل میں رائے عامہ کے جتنے جائزے ہوئے ہیں ان میں نتن یاہو کی مقبولیت بہت کم دکھائی گئی ہے۔اسرائیلی میڈیا نے نتن یاہو کی قیادت میں لیکوڈ پارٹی کے ایک ایسے اقدام کی اطلاع دی ہے جو ایک ایسا سیاسی اتحاد قائم کرے گی جو ایک مستحکم حکومت کو برقرار رکھے گا اور اس کے سہارے کسی بھی لمحے قبل از وقت انتخابات کرانے پر مجبور نہ ہو۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل نے غزہ میں ایک جنگ چھیڑ رکھی ہے اور اسے ابھی تک اس کے مقاصد کے حصول میں ناکامی ہے۔اسرائیلی نشریاتی ادارے نے چہارشنبہ کو نشر کی گئی ایک رپورٹ میں کہا کہ لیکوڈ پارٹی نے پہلے ہی حزب اختلاف کے رہنما یائر لپیڈ کی قیادت میں ’فیوچر پارٹی‘ کے ساتھ رابطے شروع کر دیے ہیں، تاکہ ایک سیاسی شراکت قائم کی جا سکے جو نتن یاہو کی حکومت میں اس کے داخلے کو یقینی بنائے۔