تل ابیب۔ 27 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) اسرائیل کے مختلف ریسرچ اداروں ؍ انسٹی ٹیوشنس سے تعلق رکھنے والے کم و بیش دو درجن ہندوستانی طلباء نے ہندوستانی سفارتخانہ کے روبرو متنازعہ شہریت ترمیمی قانون اور مجوزہ این آر سی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور اسے مذہب کے نام پر اقلیتوں پر مظالم ڈھانے حکومت کا ایک آلہ قرار دیا۔ سی اے اے کے مطابق ایسے ہندو، سکھ، بودھ، جین، پارسی اور عیسائی جو پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے مذہبی مظالم کی بنیاد پر 31 ڈسمبر 2014ء یا اس سے قبل ہندوستان آئے ہوں انہیں ہندوستانی شہریت دی جائے گی۔ جاریہ ماہ کے اوائل میں جب سے اس بل کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا اس وقت سے ہی پورے ہندوستان میں احتجاجی مظاہرے کئے جارہے ہیں جبکہ صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند نے اس بل پر دستخط کرتے ہوئے اسے قانون میں تبدیل کردیا ہے۔
