اسرائیل نسلی، مذہبی بنیاد پر جرائم کا مرتکب :ایچ آر ڈبلیو

   

Ferty9 Clinic

نیویارک : انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ(ایچ آر ڈبلیو) نے کہا ہے کہ اسرائیل اپنی حدود اور مقبوضہ علاقوں میں نسلی اور مذہبی بنیاد پر عربوں کے خلاف جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔برطانونی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی رپورٹ کے مطابق ایچ آر ڈبلیو نے نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل کی پالیسی ہے کہ ’’فلسطینیوں پر اسرائیلی یہودیوں کو برتری حاصل ہو‘‘ اور اس میں اپنے شہری بھی شامل ہیں۔نسلی اور مذہبی بنیاد پر تفریق کو انسانیت کے خلاف جرم تصور کیا جاتا ہے۔دوسری جانب اسرائیل کی وزارت خارجہ نے رپورٹ کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا اور انسانی حقوق کے ادارے پر الزامات عائد کیا۔فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے ایچ آر ڈبلیو کی رپورٹ کا خیر مقدم کیا۔ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو ہنگامی طور پر مداخلت کرنے ضرورت ہے ۔ اسرائیل کی 93 لاکھ کی آبادی میں 20 فیصد عرب ہیں جبکہ 25 لاکھ فلسطینی اسرائیل کے مقبوضہ علاقے مغربی کنارے میں مقیم ہیں اور 3 لاکھ 50 ہزار اسرائیلیوں نے مشرقی بیت المقدس پر قبضہ کر رکھا ہے۔اسی طرح 19 لاکھ فلسطینی غزہ میں رہتے ہیں اور اقوام متحدہ اس علاقے کو بھی اسرائیل کے زیر تسلط تصور کرتا ہے۔ اسرائیل نے 1967 ء کی مشرق وسطیٰ کی جنگ میں فلسطینی علاقوں پر قبضہ کیا تھا اور 2005 ء میں غزہ کو خالی کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اب بھی اکثر سرحدوں پر قابض ہے اور راستے بھی بند ہیں۔دوسری جانب مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس (یروشلم) میں تعمیرغیرقانونی بستیوں میں 6 لاکھ سے زائد یہودیوں کو بسایا گیا ہے، جس کو عالمی برادری بھی غیر قانونی تسلیم کرتی ہے۔