اسرائیل نے ہمیں سر قلم کئے گئے فوجیوں کی تصاویر دکھائی تھیں: بلنکن

   

واشنگٹن : امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کی رہائی کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت اسرائیل کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے کانگریس کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ اسرائیلی حکومت نے ہمیں گولیوں سے زخمی ہونے والے بچوں اور فوجیوں کی تصاویر دکھائیں جن کے سر کٹے ہوئے تھے۔ حماس نے جو کچھ کیا اس نے ہمیں وہی سفاکی یاد دلا دی جس کو داعش نے بھی اپنایا تھا۔انہوں نے وضاحت کی کہ واشنگٹن جنوب میں بے گھر اسرائیلیوں کی مدد کیلئے کوششوں کو متحد کرنے کیلئے بھی کام کر رہا ہے۔ ان کا ملک اسرائیل کے ساتھ متحد ہے اور اس کے دکھ میں شریک ہے۔بلنکن نے مزید کہا کہ میں نے اسرائیل میں ان امریکیوں کے خاندانوں سے ملاقات کی ہے جو حماس کے ہاتھوں مارے گئے یا یرغمال بنائے گئے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انہوں نے اسرائیل میں شیر خوار بچوں کی تصاویر دیکھی ہیں جنہیں گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔اسرائیلی وزارت خارجہ کی طرف سے حماس کے ہاتھوں درجنوں بچوں کی ہلاکت کی تردید کے باوجود امریکی صدر بائیڈن نے چہارشنبہ کی شام یہودی رہنماؤں کے سامنے اپنی تقریر کے دوران کہا تھا کہ انہوں نے بچوں کی تصاویر دیکھی ہیں جن کے سر کٹے ہوئے تھے۔بائیڈن کے بیانات کے بعد وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے وضاحت کی کہ امریکی صدر نے اپنے بیان کی بنیاد میڈیا رپورٹس اور اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کے ترجمان کے الزامات پر رکھی تھی۔ وائٹ ہاؤس نے یہ بھی کہا کہ بائیڈن اور دیگر امریکی حکام نے حماس کے ہاتھوں اسرائیلی بچوں کے سر قلم کیے جانے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی تھی۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے کل وضاحت کی کہ وہ اس مرحلے پر ان اطلاعات کی تصدیق کرنے سے قاصر ہے کہ حماس کے افراد نے ملک کے جنوب میں ایک کبوٹز پر 40 بچوں کو قتل کر دیا تھا۔