اسرائیل ‘ وائرس کے پھیلاو کو روکنے عوام کی نگرانی پر تنقیدیں

   

جمہوریت کی بنیادوں کے خلاف اقدام ۔ انسانی حقوق گروپس کا شدید اعتراض
تل ابیب ۔ کورونا وباء کے ابتدائی ایام میں اسرائیل نے خوف کے عالم میں ایک عوامی نگرانی کا عمل شروع کیا تھا ۔ عام شہریوں پر نگرانی کی جا رہی تھی ۔ عوام کے سیل فونس کو ٹریک کیا جا رہا تھا اور یہ امید کی جا رہی تھی کہ اس سے کورونا وائرس کے پھیلاو پر قابو پایا جاسکے گا ۔ حکومت نے مطلوب فلسطینی باشندوں یا عسکریت پسندوں کو گرفتار کرنے استعمال کی جانے والی ٹکنالوجی کو وائرس کے خلاف اپنے عوام پر استعمال کیا تھا ۔ تاہم اب کئی مہینے بعد بھی اس نگران کار نظام کے موثر ہونے پر سوال کیا جا رہا ہے اور ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ نگرانی ملک کے جمہوری اصولوں پر سمجھوتہ کرتے ہوئے کی گئی ہے ۔ اسوسی ایشن آف سیول رائیٹس ان اسرائیل کی ترجمان مایا فرائیڈ کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے اپنے ہی عوام پر اتنی زیادہ اور قریب سے نگرانی رکھی جانا انتہائی تشویش کی بات ہے ۔ اس اسوسی ایشن نے عدالت میں بھی درخواست دائر کرتے ہوئے حکومت کے اس اقدام کو چیلنج کیا تھا ۔ اس کا کہنا ہے کہ ملک کے جمہوری اصولوں پر بحران کے نام پر سمجھوتہ کیا گیا ہے ۔ اس اسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ اقدام جمہوریت کی بنیادوں کے مغائر ہے ۔ بحران کے نام پر جمہوریت سے اس طرح کھلواڑ نہیں کیا جاسکتا ۔ مقامی اخبارات کا کہنا ہے کہ داخلی سلامتی محکمہ کی جانب سے اندرون ملک دو دہوں سے اس ٹکنالوجی کا استعمال ہو رہا ہے تاہم اس کو اکثر فلسطینی عوام کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس ٹکنالوجی کے ذریعہ ہر اس فرد کا مکمل ڈاٹا حاصل کرلیا جاتا ہے جو اسرائیل میں ٹیلیکام سرویس سے استفادہ کرتا ہے ۔ جو اطلاعات اس ٹکنالوجی کے ذریعہ حاصل کی جاتی ہیں ان میں فون استعمال کرنے والے کا لوکیشن ‘ انٹرنیٹ براوزنگ کی ہسٹری اور کالس و ٹیکسٹ پیامات وغیرہ بھی شامل ہوتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ داخلی سلامتی کی ایجنسی کو اس ٹکنالوجی کے ذریعہ عسکریت پسندوں کا پتہ چلانے اور امکانی حملوں کو ٹالنے میں مدد ملی ہے ۔ اس تعلق سے مزید کئی اندیشے بھی ہیں جن کی حکومت نے کوئی وضاحت نہیں کی ہے ۔