نیویارک : ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایران کو حماس کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کی تہران میں ہلاکت کا بدلہ لینے کیلئے اسرائیل پر براہ راست حملہ کرنے کا حکم جاری کیا ہے ۔ اس بات کی اطلاع نیویارک ٹائمزنے دی ہے ۔ ایرانی سپریم لیڈر کے اس حکم پر بریفنگ دینے والے تین ایرانی عہدیداروں کے مطابق خامنہ ای نے یہ حکم چہارشنبہ کو ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے ایک ہنگامی اجلاس میں دیا ۔ ایران کی جانب سے اسماعیل ھنیہ کی شہادت کے اعلان کے فوراً بعد تین ایرانی عہدیداروں نے جن میں پاسداران انقلاب کے دو ارکان بھی شامل تھے ‘ کہا کہ ان کے نام شائع نہ کئے جائیں کیونکہ وہ عوامی طورپر بات کرنے کے مجاز نہیں ہیں ۔ ایران اور حماس نے اسرائیل پر قتل کا الزام لگایا ہے ۔ اسرائیل جو غزہ کی پٹی میں حماس کے ساتھ برسر پیکار ہے اس نے اسماعیل ھنیہ کے قتل کا نہ تو اعتراف کیا ہے اور نہ ہی انکار کیا ہے ‘ ھنیہ ایران کے نئے صدر مسعود پنیر شکیان کی حلف برداری تقریب میں شرکت کیلئے تہران آئے تھے ۔اسرائیل کی بیرون ملک دشمنوں کو مارنے کی ایک طویل تاریخ ہے جن میں ایرانی جوہری سائنسدان اور فوجی کمانڈر بھی شامل ہیں ۔ غزہ میں تقریباً 10 ماہ کی جنگ کے دوران ایران نے ایک توازن قائم کرنے کی کوشش کی ہے اور خطے میں اپنے اتحادیوں اور افواج کے حملوں میں تیزی سے اضافہ کرکے اسرائیل پر دباو ڈالا ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان ہمہ گیر جنگ سے گریز کیا ہے ۔