آپریشن ’’ الاقصیٰ سیلاب ‘‘ مقدس مسجد کی بے حرمتی کا بدلہ: حماس ۔کئی قصبوں پر جنگجوؤں کے قبضے کی اطلاع
تل ابیب ؍ غزہ سٹی : فلسطینی تنظیم حماس نے اسرائیل پر راکٹ حملے کیے ہیں ۔ ہفتہ کی صبح تقریباً 8 بجے دارالحکومت تل ابیب ، سڈروٹ ، اشکیلون سمیت 7 شہروں پر راکٹ فائر کیے گئے ۔ یہ راکٹ رہائشی عمارتوں پر گرے ہیں ۔ ایک مئیر کے بشمول 5 افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔ 100 سے زائد افراد زحمی ہوئے ہیں ۔ راکٹوں کی بارش میں مہلوکین کی تعداد بڑھ سکتی ہے ۔ حماس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیل پر 5 ہزار راکٹوں سے حملہ کیا ہے۔ اسی دوران اسرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی سے 2200 راکٹ فائر کیے گئے۔ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق حماس نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہاں اسرائیل کی فوج نے بھی کہا ہے کہ وہ جنگ کیلئے تیار ہے۔ فوج نے اپنے فوجیوں کیلئے جنگ کی تیاری کا الرٹ جاری کیا ہے۔ہفتہ کی صبح اسرائیل میں مسلسل زبردست بم دھماکوں کی وجہ سے ملک بھر میں سائرن کی آوازیں سنی گئیں۔ حماس نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔فلسطینی تنظیم حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملوں کے بعد وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اعلان جنگ کر دیا ہے۔ کابینہ کے ساتھ ہنگامی اجلاس کے بعد انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے شہریو! یہ جنگ ہے اور ہم اسے ضرور جیتیں گے۔ دشمنوں کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔حماس کے حملوں کے آغاز کے تقریباً 5 گھنٹے بعد نیتن یاہو کا یہ پہلا بیان ہے۔ انہوں نے کہاکہ حملے میں بہت سے لوگوں کے مارے جانے کی خبر آئی ہے۔ تقریباً 545 افراد زخمی ہیں۔ حماس کے دہشت گرد ہمارے ملک میں داخل ہو چکے ہیں۔ اسرائیل کے مغربی قصبوں پر مسلسل راکٹ داغے جا رہے ہیں۔ اب تک 22 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم حماس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں 30 اسرائیلی مارے گئے ہیں۔حماس کی جانب سے راکٹ فائر کیے جانے کے بعد جنگ کے امکانات پیدا ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اسرائیل کی جانب داغے جانے والے راکٹوں کی آوازیں غزہ کی پٹی کے آسمان پر گونجیںجب کہ اسرائیل کو فضائی حملوں کے خلاف خبردار کرنے والے سائرن کی آواز ملک کے اقتصادی اور ثقافتی دارالحکومت تل ابیب میں بھی سنی گئی، جو شمال کی جانب تقریباً 70 کلومیٹر دور ہے۔اسرائیلی فوج نے حماس کے ٹھکانوں پر حملے شروع کر دیے ہیں۔یروشلم پوسٹ کے مطابق حماس کے جنگجوؤں نے کئی قصبوں پر قبضہ کر لیا ہے۔حماس نے کہاکہ یہ مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کا بدلہ ہے۔حماس کے فوجی کمانڈر محمد دیف نے کہاکہ جاریہ آپریشن کو الاقصیٰ سیلاب کا نام دیا گیا ہے۔ یہ اسرائیل کی طرف سے یروشلم میں مسجد الاقصی کی بے حرمتی کا بدلہ ہے۔ دراصل، اسرائیلی پولیس نے اپریل 2023 میں مسجد اقصیٰ پر گرینیڈ پھینکا تھا۔حملے سے متعلق ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔
اشکیلون شہر میں حملے کی ایک ویڈیو میں سڑکوں پر کھڑی عمارتوں اور گاڑیوں کو جلتے دیکھا جا سکتا ہے۔ حملے میں 5 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں ایک 70 سالہ خاتون بھی شامل ہے۔حماس کے جنگجو سڑکوں پر گھومتے نظر آتے ہیں۔اسرائیل حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے ۔اسی لیے اسرائیل نے آج حملے کو دہشت گردانہ حملہ قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر کئی ویڈیوز منظر عام پر آ رہی ہیں، جن میں جنگجوو?ں کو گھومتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم ان ویڈیوز کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ عسقلان اور تل ابیب میں فوجیوں کی تعداد بڑھا دی گئی ہے۔حماس کے ترجمان خالد قدومی نے الجزیرہ کو بتایا کہ قسام پلوں کا آپریشن نہ صرف اسرائیل بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی ایک اشارہ ہے کہ فلسطینی ان تمام مظالم کے جواب میں صرف اپنا دفاع کر رہے ہیں جن کا وہ حالیہ برسوں میں سامنا کر رہے ہیں۔’’ہم چاہتے ہیں کہ عالمی برادری غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف ہمارے مقدس مقامات جیسے الاقصیٰ کے خلاف مظالم بند کرے۔ یہ تمام چیزیں اس جنگ کو شروع کرنے کی وجہ ہیں۔‘‘یہ پوچھے جانے پر کہ کیا حماس نے اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں کو یرغمال بنایا ہے، قدومی نے کہاکہ وہ یرغمال نہیں ہیں۔ وہ جنگی قیدی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی آباد کار بھی قابض ہیں اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق وہ حملہ آور ہیں۔لہذا آج کی صورتحال حملہ آوروں کے خلاف جنگ ہے۔