لندن ۔ 24 جولائی (ایجنسیز)ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جمعرات کو کہا ہے کہ ایران نے جون میں جنگ کے دوران اسرائیل پر وسیع پیمانے پر ممنوعہ کلسٹر گولہ بارود فائر کیا اور ان حملوں سے شہریوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہوا۔انسانی حقوق کے گروپ نے نئی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، “گذشتہ ماہ ایرانی افواج نے اسرائیل کے گنجان آباد رہائشی علاقوں میں بیلسٹک میزائل داغے جن کے وارہیڈز میں ہتھیار موجود تھے۔”تنظیم نے کہا کہ اس نے کلسٹر گولہ بارود دکھانے والی تصاویر اور ویڈیوز کا تجزیہ کیا جو میڈیا رپورٹس کے مطابق 19 جون کو تل ابیب کے اردگرد گش دان میٹروپولیٹن علاقے میں داغے گئے تھے۔ایمنسٹی نے کہا کہ اس کے علاوہ 20 جون کو جنوبی شہر بیئرشیبا اور 22 جون کو تل ابیب کے جنوب میں واقع رشون لیزیون کو بھی ایسے “بارود سے نشانہ بنایا گیا جس سے علاقے میں متعدد گڑھے پڑ گئے۔ یہ گڑھے گش دان پر داغے گئے ہتھیاروں کے نتائج سے مماثلت رکھتے تھے۔”ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سینئر ڈائریکٹر ایریکا گویرا روزاس نے کہا، “ایسے ہتھیاروں کو آبادی والے رہائشی علاقوں میں یا ان کے اردگرد استعمال کر کے ایرانی افواج نے شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دیں۔ ایرانی افواج کا دانستہ ایسے ہتھیاروں کا اندھا دھند استعمال بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔”کلسٹر گولہ بارود ہوا میں پھٹتے ہیں اور بم کے ٹکڑے بکھر جاتے ہیں۔ بعض اپنے نشانے پر پھٹنے میں ناکام رہتے ہیں اور وقت کے ساتھ خاص طور پر بچوں کی ہلاکت کا سبب بن سکتے ہیں۔