ایران کے حیفہ اور تل ابیب پر خطرناک جوابی حملے ۔ چار افراد ہلاک ۔ امریکی بحری بیڑے کو بھی نشانہ بنانے کا دعوی
تہران /حیفہ 6 اپریل ( ایجنسیز ) مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں ایران کی اہم ترین پیٹروکیمیکل تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعووں نے صورتحال کو نہایت سنگین بنا دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جنوبی ایران کے صنعتی شہر عسلویہ میں واقع پارس جنوبی پیٹروکیمیکل کمپلیکس میں یکے بعد دیگرے کئی دھماکے سنے گئے، جس کے بعد پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے ایک ویڈیو بیان میں دعویٰ کیا کہ اسرائیلی افواج نے ایران کی سب سے بڑی کیمیائی تنصیب پر کامیاب حملہ کیا ہے۔ ان کے مطابق اس کارروائی کے نتیجے میں دو کلیدی تنصیبات ناکارہ ہو گئیں، جو ملک کی بڑی پیٹروکیمیکل برآمدات سے وابستہ تھیں۔ کاتز کا کہنا تھا کہ اس حملے سے ایران کو اربوں ڈالر کا معاشی نقصان پہنچا ہے اور اس کے توانائی کے ڈھانچے کو شدید دھچکا لگا ہے۔ایرانی ذرائع ابلاغ نے بھی عسلویہ میں حملوں کی تصدیق کرکے بتایا کہ دو یوٹیلیٹی کمپنیوں کو نقصان پہنچنے سے متعدد پیٹروکیمیکل یونٹس کی بجلی منقطع ہو گئی۔ صوبہ بوشہر کے حکام نے تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی بات تسلیم کی، تاہم ایرانی پیٹروکیمیکل کمپنی کے مطابق صورتحال قابو میں ہے اور نقصانات کا مکمل تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔اسی دوران جنوب مغربی ایران کے شہر بوشہر، عبادان اور تہران کے نواحی علاقے رباط کریم میں بھی گولہ بارود کے ذخائر کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ تہران میں شریف یونیورسٹی کے قریب گیس ترسیلی نظام متاثر ہونے سے عارضی طور پر گیس کا اخراج بھی رپورٹ ہوا، جس سے مقامی سطح پر تشویش بڑھ گئی۔دوسری جانب ایران نے فوری جوابی کارروائی کرکے وسطی اسرائیل کی جانب میزائل داغے، جس کے نتیجے میں تل ابیب میں زور دار دھماکے سنے گئے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق درجنوں مقامات پر میزائلوں کے ٹکڑے گرے جبکہ حیفہ میں ایک رہائشی عمارت پر حملے کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے۔ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اسرائیل سے منسلک ایک بحری جہاز کو کروز میزائل سے نشانہ بنایا، جس کے بعد اس میں آگ بھڑک اٹھی۔ ایران نے امریکی بحری بیڑے کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر ڈرون اور میزائل حملوں کی دھمکی دی گئی ہے۔یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں 45 روزہ عارضی جنگ بندی کی تجاویز زیر غور ہیں۔ تاہم تازہ حملوں نے امن کی کوششوں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر طے شدہ مہلت کے اندر معاہدہ نہ ہوا اور آبنائے ہرمز میں بحری راستہ بحال نہ کیا گیا تو ایران کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق توانائی کی تنصیبات پر براہ راست حملے نہ صرف اس جنگ کے دائرہ کار کو وسیع کر رہے ہیں بلکہ عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ خطہ ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں کسی بھی مزید کارروائی کے نتیجے میں صورتحال مکمل جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔H/K